تلعفر مکمل طورپر داعش کے قبضے سے آزاد ہوگیا
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i295842-تلعفر_مکمل_طورپر_داعش_کے_قبضے_سے_آزاد_ہوگیا
عراق میں قادمون آپریشن کے کمانڈر نے کہا ہے کہ عراقی فوج اور عوامی رضاکارفورس نے اتوار کی صبح تلعفر شہر کو داعش کے قبضے سے پوری طرح آزاد کرا لیا اور اس وقت پورا شہر، عراقی افواج کے کنٹرول میں ہے موصل کے فوجی آپریشن کے بعد تلعفر کی کامیابی، عراق کی حکومت اور قوم ، ساتھ ہی مزاحمتی محور کے لئے بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہے-
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Aug ۲۸, ۲۰۱۷ ۱۳:۲۶ Asia/Tehran
  • تلعفر مکمل طورپر داعش کے قبضے سے آزاد ہوگیا

عراق میں قادمون آپریشن کے کمانڈر نے کہا ہے کہ عراقی فوج اور عوامی رضاکارفورس نے اتوار کی صبح تلعفر شہر کو داعش کے قبضے سے پوری طرح آزاد کرا لیا اور اس وقت پورا شہر، عراقی افواج کے کنٹرول میں ہے موصل کے فوجی آپریشن کے بعد تلعفر کی کامیابی، عراق کی حکومت اور قوم ، ساتھ ہی مزاحمتی محور کے لئے بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہے-

البتہ اس بات کی پیش گوئی کی جا رہی تھی کہ تلعفر کو آزاد کرانے کی کارروائی موصل آپریشن کی مانند طولانی نہیں ہوگی- کیوں کہ عراق میں موصل ، اور شام میں حلب کی آزادی ، اور دہشت گردوں اور ان کے حامیوں کے تانے بانے بکھرجانے سے عراق میں داعش گروہ بہت کمزور پڑگیا تھا- 

تلعفر کی آزادی چند پہلوؤں سے اہمیت کی حامل ہے

اول تو یہ کہ تلعفر عراق کے صوبہ نینوا کا سب سے بڑا شہر ہے جو ترکی اور شام کی سرحد کے سب سے نزدیک واقع ہے- اس امر کے پیش نظر کہ داعش کو شام میں بھی استقامتی محور کی جانب سے بہت زیادہ مزاحمت اور دباؤ کا سامنا ہے اور دوسری طرف بارہا دہشت گرد عناصر کو ترکی کے راستے سے افرادی قوت کو بلانے میں مدد ملی ہے لیکن اس وقت دہشت گردوں کے درمیان اس راستے سے باہمی رابطہ مکمل طور پر منقطع ہوگیا ہے اور وہ شام اور ترکی کے راستے سے افرادی قوت کو اکٹھا نہیں کرسکتے-

دوم یہ کہ تلعفر آپریشن میں الحشد الشعبی نے بہت زیادہ مخالفتوں کے باوجود  بڑھ چڑھ کر حصہ لیا - اس سے پہلے جب موصل کے آپریشن میں حشد الشعبی نے سرکاری فورسز کا ساتھ دیا تھا تو اس عوامی فورس حشد الشعبی کے مخالفین اور دشمنوں نے اس مشارکت کو فرقہ واریت کا رنگ دیتے ہوئے اسے شیعہ اور سنی کا مسئلہ بنانے کی کوشش کی تھی لیکن موصل کسی تفرقہ کے بغیر ہی آزاد ہوگیا اور موصل کو آزاد کرانے کی کارروائی کے سبھی شرکاء نے ان کارروائیوں میں حشد الشعبی کی موثر موجودگی کا اعتراف کیا اور پھر تلعفر کو آزاد کرانے میں بھی ان مخالفتوں نے ایک بار پھر سر اٹھایا- یہ اس لئے تھا تاکہ موصل کی آزادی کی طرح تلعفر کی آزادی میں ، حشد الشعبی کا موثر کردار سامنے نہ آسکے- اس سلسلے میں مغربی ملکوں خاص طور پر امریکہ نے بہت کوشش کی- لیکن عراق کی حکومت نے ان کی باتوں پر کوئی توجہ نہیں دی اور نتیجے میں یہ کارروائیاں ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں بارآور ثابت ہوئیں-

داعش سے جنگ کے سبب، اس عوامی فورس پر فرقہ واریت کا الزام عائد کیا جا رہا ہے جبکہ اس فورس میں سنی ، شیعہ ، کرد اور ترکمن سبھی شامل ہیں اور ان کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے اور اس عوامی فورس کی کارکردگی کی بنیاد ہی عوامی مفادات ہیں- واضح رہے کہ عوامی رضاکار فورس الحشد الشعبی دوہزار چودہ میں شہر موصل پر داعش کے قبضے کے بعد، اس دہشت گرد گروہ سے مقابلے کے لئے شیعوں کے عظیم مرجع تقلید آیۃ اللہ العظمی سیستانی کی درخواست پر وجود میں آئی اور اس وقت اس ملک کی مسلح افواج کی کمان میں  فوجی کارروائیوں میں حصہ لے رہی ہے-

سوم یہ کہ مغربی ملکوں کی ان دنوں عراق میں آمد و رفت زیادہ ہے اور وہ اس ملک کے مختلف حکام سے ملاقاتیں اور بات چیت کر رہے ہیں- فرانس نے یہ کہا ہے کہ وہ 2017 میں چار سو تیس ملین یورو کا قرضہ عراق سے مختص کرے گا- امریکی حکام  بھی مسلسل آمدو رفت جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ ان کامیابیوں میں اپنا کردار ظاہر کرسکیں- عراقی وزیراعظم نے کہا ہے کہ عراق اس وقت ایک بڑی کامیابی حاصل کرنے کے قریب پہنچ چکا ہے اور عراق میں حالات اب تیزی کے ساتھ معمول پر لوٹ رہے ہیں اس لئے سبھی سرمایہ کاروں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ عراق میں سرمایہ کاری کریں -

اس وقت تلعفر کی آزادی سے زیادہ اس شہر میں نظم و نسق قائم کرنا اور اسے چلانا ہے کیوں کہ اس شہر کی زیادہ تر آبادی ترکمنوں، عیسائیوں اور اہل سنت فرقوں کے باعث حساسیت کی حامل ہے - بعض کا یہ خیال ہے کہ یہ شہر بھی عراق کے دیگر شہروں کی مانند عراق کی مرکزی حکومت کے زیر نظر ہوگا-  قومی فرقہ وارانہ نظریات اصل میں اسی کا نتیجہ ہیں-

اس سے قبل موصل کی آزادی کے تعلق سے بھی ، داعش کے خاتمے کے بعد موصل کا مینجمنٹ اور اس کا نظم و نسق چلانے کا مسئلہ پیش کیا گیا تھا- یہ مسئلہ اس لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے کہ عراق میں داعش کے خاتمے کے بعد موصل کا نظم و نسق چلانے میں ٹھوس اختلاف پایا جاتا ہے اور یہاں تک کہ عراق کے حکومت مخالفین بھی اس مسئلے کو، بغداد کی مرکزی حکومت کی پوزیشن کمزور کرنے کے لئے استعمال کر رہے ہیں - موصل اور صوبہ نینوا عراق کی سرزمین کا ایک اہم حصہ ہے اور اس کا نظم و نسق بھی عراق کی مرکزی حکومت کے ذمے ہے لیکن اس سلسلے میں عراقی کردستان کے علاقے کے حکام کی جانب سے جو اختلاف رائے پایا جاتا ہے وہ نہ صرف موصل کی آزادی کی کارروائی شروع ہونے کے پہلے اور بعد میں بھی، اس کارروائی کے توقف کا باعث بنے بلکہ ان اختلافات کے موصل کے شہریوں پر پڑنے والے منفی اثرات کے بارے میں بھی تشویش پائی جاتی ہے-