ایران ایٹمی معاہدے میں ریڈ لائن سے عبور نہیں کرے گا
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i295844-ایران_ایٹمی_معاہدے_میں_ریڈ_لائن_سے_عبور_نہیں_کرے_گا
اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس بات کا اعلان کرتے ہوئے کہ ایران نے جوہری توانائی کی عالمی ایجنسی آئی اے ای اے کے وعدوں کی پابندی کی ہے اس بات پر تاکید کی کہ ایران ریڈ لائن سے عبور نہیں کرے گا-
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Aug ۲۸, ۲۰۱۷ ۱۳:۲۶ Asia/Tehran
  • ایران ایٹمی معاہدے میں ریڈ لائن سے عبور نہیں کرے گا

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس بات کا اعلان کرتے ہوئے کہ ایران نے جوہری توانائی کی عالمی ایجنسی آئی اے ای اے کے وعدوں کی پابندی کی ہے اس بات پر تاکید کی کہ ایران ریڈ لائن سے عبور نہیں کرے گا-

انہوں نے کہا کہ ایران کسی کو بھی ان میدانوں میں کسی طرح کا دخل دینے کی اجازت نہیں دے گا جو ایٹمی سمجھوتے میں شامل نہیں ہیں- ایران کی جوہری توانائی کی تنظیم کے سربراہ علی اکبر صالحی نے بھی کوانٹم ٹکنالوجیز نیشنل کانفرنس کے موقع پر نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ایٹمی معاہدہ آسانی سے حاصل نہیں کیا ہے جو اسے آسانی سے ہاتھ سے جانے دیں-

یہ تاکیدیں ، ایٹمی معاہدے کے خلاف امریکہ کے ان تازہ ترین اقدامات کا جواب ہیں جو اقوام متحدہ میں امریکی نمائندہ نیکی ہیلی کے دورہ ویانا میں واشنگٹن کے ایجنڈے میں قرار پائے ہیں-  اقوام متحدہ میں امریکہ کی نمائندہ نیکی ہیلی نے بدھ تیئیس اگست کو ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی کے سربراہ یوکیا آمانو سے ملاقات کے بعد ایک پریس کانفرنس میں دعوی کیا کہ ایٹمی سمجھوتے میں ایٹمی سائٹوں کے معائنے کے سلسلے میں فوجی اور غیرفوجی سائٹوں کے درمیان کسی طرح کے فرق کو ملحوظ نہیں رکھا گیا ہے-  

ان بیانات سے ایک بار پھر واضح ہوجاتا ہے کہ امریکہ بدستور آئی اے ای اے کے توسط سے اپنے بے بنیاد دعووں کے اعادے کے ذریعے ایران پر دباؤ بڑھانے کے درپے ہے- لیکن اس بارے میں ایران کا موقف بالکل واضح اور شفاف ہے - آئی اے ای اے کے دائرہ کار میں سب کچھ واضح ہے اور ایران نے مشترکہ جامع ایکشن پلان یا ایٹمی معاہدے کے دائرے میں آئی اے ای اے کے ساتھ بہترین تعاون کیا ہے- آئی اے ای اے نے بھی اپنے متعدد بیانات میں تاکید کے ساتھ کہا ہے کہ ایران نے ایٹمی معاہدے کی مکمل طورپر پابندی کی ہے-

آئی اے ای اے نے بھی اپنے ماضی کے کارناموں میں اس سلسلے میں بہت زیادہ کمزوریوں کا مظاہرہ کیا ہے- اور ظاہر سی بات ہے کہ ماضی کے تجربوں کو دہرائے جانے سے نہ صرف یہ کہ آئی اے ای اے کی ساکھ کو نقصان پہنچے گا بلکہ ایٹمی معاہدے کے تمام فریق یعنی یورپی یونین ، روس اور چین کے لئے بھی سیاسی لحاظ سے نقصان دہ ثابت ہوگا- یورپی یونین نے ان دنوں ایران کے ساتھ بڑے معاہدے کئے ہیں اور ٹوٹل جیسی بڑی کمپنیوں نے ایران میں سرمایہ کاری کی ہے- چین اور روس بھی ایران کے ساتھ اسٹریٹیجک تعاون کر رہا ہے-

ایٹمی معاہدے اور اس کے تعلق سے امریکہ کی خلاف ورزیوں کے بارے میں بین الاقوامی مسائل کے ماہر حسن بہشتی پور کہتے ہیں

امریکہ دو مسئلے میں ایٹمی معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے- پہلا یہ  کہ امریکہ اس بات کا پابند ہے کہ ایران کے خلاف پابندیاں نہ لگائے، مگر وہ پابندیاں لگا رہاہے اور منسوخ نہیں کر رہا ہے جبکہ یہ وہی چیز ہے کہ جس کا ذکر ایٹمی معاہدے میں ہوا ہے- دوسرا مسئلہ یہ کہ امریکیوں نے دنیا میں ایران کے خلاف منفی ماحول پیدا کیا ہے اس طرح سے امریکی چاہتے ہیں کہ مختلف ملکوں کو ایران کے ساتھ تعاون کرنے سے روک دیں-

وائٹ ہاؤس کے حکام نے گذشتہ چند برسوں کے دوران ایران کے خلاف نئے اقدامات کا آغاز کیا ہے۔ ایران پرعلاقے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے الزام سے لے کرٹرمپ کا بے بنیاد دعوی، کہ جس میں ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران نے ایٹمی معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے، اس کے علاوہ ایران کی میزائل کی دفاعی صلاحیت کو مغرب کے سیاسی اور خبری حلقوں کی جانب سے خطرہ ظاہر کرنے کی کوشش ، یہ سب ایرانو فوبیا کا حصہ ہیں- اس کے باوجود کہا جاسکتا ہے کہ امریکہ کا مسئلہ ایٹمی معاہدے کی مخالفت نہیں ہے بلکہ امریکی موقف، اسلامی نظام کی مخالفت اور اس سے دشمنی ہے- 

رہبر انقلاب اسلامی آیۃ اللہ العظمی خامنہ ای نے  صدر ڈاکٹر حسن روحانی اور ان کی نئی کابینہ کے ارکان اور اعلی حکومتی عہدیداروں کے ساتھ حال ہی میں ہونے والی ملاقات میں  اپنے خطاب کے دوران سفارتکاری کے میدان میں دینی اور انقلابی جذبے کے تحفظ کی ضرورت پر زوردیتے ہوئے فرمایا کہ سفارتی مسائل میں ہمیں اپنے انقلاب پر فخر کرنا چاہئے اور انقلاب کے نتیجے میں بننے والے اپنے قومی اصولوں منجملہ سامراج کے مقابلے میں ثابت قدمی، ظلم کی نفی اور تسلط پسندانہ نظام کی مخالفت جیسے اصولوں پر فخر اور عزت کا احساس کرنا چاہئے-