آٹھ شہریور مطابق تیس اگست، ایران میں دہشت گردی سے مقابلے کا دن
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i296090-آٹھ_شہریور_مطابق_تیس_اگست_ایران_میں_دہشت_گردی_سے_مقابلے_کا_دن
آٹھ شہریور مطابق تیس اگست کا دن، ایرانی کیلنڈر میں دہشت گردی سے مقابلے کے دن سے موسوم کیا گیا ہے-
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Aug ۳۰, ۲۰۱۷ ۱۴:۲۷ Asia/Tehran
  • آٹھ شہریور مطابق تیس اگست، ایران میں دہشت گردی سے مقابلے کا دن

آٹھ شہریور مطابق تیس اگست کا دن، ایرانی کیلنڈر میں دہشت گردی سے مقابلے کے دن سے موسوم کیا گیا ہے-

ایران برسوں سے دہشت گردانہ کاروائیوں کی بھینٹ چڑھ رہا ہے اور اسی وجہ سے دہشت گردی سے حقیقی مقابلے کی ضرورت و اہمیت کو صحیح طور پر درک کر رہا ہے- چنانچہ آٹھ شہریور مطابق تیس اگست کا دن ایرانی کیلنڈر میں دہشت گردی سے مقابلے کے دن سے موسوم کیا گیا ہے اور یہ مسئلہ اسی نکتے کی یاد دہانی کرتا ہے- دہشت گرد گروہ منافقین اور دیگر دہشت گرد گروہوں نے گزشتہ چند برسوں کے دوران امریکہ اور سعودی عرب کی مالی اور فوجی حمایت کے سبب، علاقے کے ملکوں منجملہ عراق ، شام اور افغانستان میں بڑے پیمانے پر خوفناک جرائم کا ارتکاب کیا ہے -

منافقین کے دہشت گرد گروہ ایم کے او نے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے ابتدائی برسوں میں ہی ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردانہ کارروائیوں کا وسیع پیمانے پر آغاز کر دیا تھا۔

اس دہشت گرد گروہ کے عناصر نے سنہ انیس سو اناسی سے لے کر سنہ انیس سو اکیاسی تک کے دو برسوں کے دوران ایران کے بہت سے حکام، انقلابی مجاہدین اور عام شہریوں کا قتل عام کیا اور ان دہشت گردانہ واقعات کی ذمہ داری بھی قبول کی- ان دہشت گردانہ اقدامات میں سترہ ہزار سے زائد ایرانی شہید ہوئے۔ اٹھائیس جون سنہ انیس سو اکیاسی میں حزب جمہوری اسلامی کے ہیڈکوارٹر میں بم دھماکہ، وزیر اعظم ہاؤس میں بم دھماکہ، جولائی سنہ انیس سو اٹھاسی میں فروغ جاویدان کے نام سے مسلح کارروائیوں کا آغاز، اپریل سنہ انیس سو بانوے میں دنیا کے تیرہ ممالک میں ایرانی سفارت خانوں اور قونصل خانوں پر حملے، بیس جون سنہ انیس سو چورانوے میں حضرت امام رضا علیہ السلام کے حرم مطہر میں بم دھماکہ ، کہ جس میں پچیس افراد شہید اور ستّر زخمی ہوگئے تھے، اس دہشت گرد گروہ کے اقدامات کا صرف ایک حصہ ہے۔ یہ اقدامات اس گروہ نے امریکہ،  فرانس اور اپنے دوسرے حامیوں کی مدد سے انجام دیئے تھے۔

برطانیہ سے شائع ہونے والے اخبار انڈی پینڈنٹ نے امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف دہشت گردی کی حمایت کے مختلف پہلووں کا جائزہ لیتے ہوئے لکھا ہے کہ جارج بش کے زمانے میں واشنگٹن کی جانب سے دہشت گرد گروہوں کی مالی حمایت اپنے عروج پر پہنچ گئی اور اوباما کی حمایت سے بھی اسی پالیسی کو جاری رکھا گیا۔ باراک اوباما نے سنہ دو ہزار آٹھ میں ایران کے اسلامی جمہوری نظام کے مخالف گروہوں کی مدد کے لئے چار سو ملین ڈالر سے زیادہ کی رقم مختص کی۔

یورپی یونین اور امریکہ نے پہلے تو منافقین کے دہشت گرد گروہ ایم کے او  کا نام دہشت گرد گروہوں کی فہرست میں شامل کر رکھا تھا لیکن پھر امریکہ نے یوٹرن لیتے ہوئے اسے اس فہرست سے خارج کر دیا اور اس کی حمایت کرنا شروع کر دی اور اب امریکی حکام اس گروہ کے بارے میں اس انداز میں باتیں کرتے ہیں جیسے ان کو اس دہشت گرد گروہ کے دہشت گردانہ اقدامات کے بارے میں کچھ پتہ ہی نہیں ہے۔

گروہ منافقین ایم کے او کے عناصر، اسلامی جمہوریہ ایران کے نظام کو نقصان پہنچانے اور اس ملک کے متعدد عام شہریوں اور حکام کو شہید کرنے کے اقدامات شروع کرنے کے بعد پیرس فرار کرگئے اور پھر وہاں سے عراق چلے گئے- 1991 اور 1992 میں صدام نے منافقین کو ، کردوں کو سرکوب کرنے کے لئے استعمال کیا اور عراقی کردوں کی نسل کشی کا منصوبہ تیار کیا چنانچہ اس کے نتیجے میں کئی ہزار عورتوں اور بچوں کا قتل عام کیا گیا - جب امریکی حملے کے باعث صدام نے ہتھیار ڈال دیئے اس وقت بھی گروہ منافقین، امریکی حمایت کے زیر سایہ باقی رہا اور ایک مدت تک وہ لیبرٹی چھاؤنی میں اور پھر امریکہ اور برطانیہ کی لابی اور ان کے دیئے گئے وعدوں کے نتیجے میں البانیہ منتقل ہوگیا تاکہ اس یورپی ملک میں آزادانہ سرگرمیاں انجام دے سکے - حتی امریکہ ، برطانیہ اور فرانس نے بھی، جو گروہ منافقین کے اصلی حامیوں میں سے ہیں، اس گروہ کو اپنی سرزمین پر آنے کی اجازت نہیں دی، کیوںکہ یہ ممالک بظاہر دہشت گردی سے مقابلے کے دعویدار ہیں- جبکہ امریکہ کے کچھ سیاسی اور پارٹیوں کے سرگرم افراد کا خیال ہے کہ اگر وائٹ ہاؤس ایران سے مقابلے کی راہ اپنانا چاہتا ہے تو منافقین اس راہ میں اہم رول ادا کرسکتے ہیں- 

امریکہ کی قومی سلامتی کونسل کے سابق رکن اور منافقین کے حامی ریمنڈ ٹانٹر نے ایک کتاب میں لکھا ہے کہ منافقین ، ایران مخالف امریکی حکومت کے پروگراموں کو آگے بڑھانے کے لئے بہتر آپشن ہیں - یہ رویے اور اقدامات، منافقین کے بارے میں امریکی سیاستدانوں کے ایک طبقے کے زاویہ نگاہ کو برملا کر دیتے ہیں- ان سیاستدانوں کے نقطہ نگاہ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی نظر میں اس بات کی کوئی اہمیت نہیں ہے کہ منافقین نے سترہ ہزار سے زائد ایرانی شہریوں کو شہید کیا ہے ، یا یہ کہ اس دہشت گرد گروہ نے ہزاروں عراقیوں اور کردوں کو تہہ تیغ کیا ہے- یا یہ کہ امریکی وزارت خارجہ  نے منافقین کا نام دہشت گرد گروہوں کی فہرست میں شامل کرنے کے بعد  کیوں نکال دیا - کیا یہ ایسے مسائل نہیں جن کے بارے میں کچھ نہ کہا جائے اور خاموشی اختیار کی جائے؟ امریکہ کے لئے تو ہر وہ چیز اہمیت رکھتی ہے جو اسے اس کے اہداف تک پہنچنے میں وسیلہ اور ذریعہ بن جائے، اب وہ چاہے دہشت گرد گروہ ہی کیوں نہ ہو-

آٹھ شہریور مطابق تیس اگست کی تاریخ جو ایران میں دہشت گردی سے مقابلے کے دن سے موسوم ہے ان تمام واقعات اور حقائق کا جائزہ لینے کا ایک اہم موقع ہے تاکہ یہ سمجھا سکے کہ کیوں دہشت گردی عالمی خطرے میں تبدیل ہوگئی ہے-