ایران کے فوجی اور سیاسی اداروں میں ہم آہنگی
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈر انچیف میجر جنرل محمد علی جعفری نے ایران کی سفارتی اور دفاعی ہم آہنگی پر تاکید کرتے ہوئے امریکی صدر کو مخاطب قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ مسٹر ٹرمپ اس بات کا اطمینان رکھو کہ ہم وزارت خارجہ اور حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہمارے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں۔
میجر جنرل محمد علی جعفری نے پیر کے دن نامہ نگاروں سے گفتگو کے دوران کہا کہ دشمنوں کے خلاف مواقف بیان کرنے کے سلسلے میں ایران کے تمام فوجی اور سیاسی اداروں میں ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ محمد علی جعفری نے مزید کہا کہ ایران سیاسی، دفاعی اور سماجی میدانوں میں طاقت کا حامل ہے۔
اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد سے دشمنوں نے ایران میں اپنے مفادات حاصل کرنے کے لئے ایران کے مختلف اداروں میں اختلافات پیدا کرنے اور یہ تاثر پھیلانے کو اپنے ایجنڈے میں شامل کر رکھا ہے کہ ایران کے سیاسی اور فوجی اداروں کے درمیان اختلافات پائے جاتے ہیں۔ لیکن اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد کے چار عشروں میں ثابت ہوچکا ہےکہ قومی مفادات کے سلسلےمیں دشمنوں کے مقابلے میں ایرانی اداروں میں مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے اور فطری سی بات ہے کہ امریکہ کی دھمکیوں کے جواب میں ایران کے فوجی اسے خبردار کریں اور ایران کی وزارت خارجہ سفارتی موقف اختیار کر کے امریکی دھمکیوں کا اپنے انداز میں جواب دے۔ دونوں کے لہجے میں فرق ہوسکتا ہے لیکن دونوں میں ہم آہنگی پائی جاتی ہے مثلا سپاہ پاسداران کا نام دہشت گرد گروہوں کی فہرست میں شامل کئے جانے پر مبنی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ممکنہ اقدام کے بارے میں ایران کے فوجی اور سفارتی اداروں کا ردعمل ایک جیسا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کا نام دہشت گرد گروہوں کی فہرست میں شامل کرنے پر مبنی امریکہ کے ممکنہ اقدام کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے پیر کی رات کہا کہ اگر امریکی حکام نے یہ اسٹریٹیجک غلطی کی تو اسلامی جمہوریہ ایران جوابی کارروائی کرے گا اور ایران اس سلسلے میں جو اقدامات انجام دے گا ان کا مناسب وقت پر اعلان کر دیا جائے گا۔
اس سے قبل میجر جنرل جعفری نے بھی تاکید کی تھی کہ اگر سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کا نام دہشت گرد گروہوں کی فہرست میں شامل کرنے پر مبنی امریکی اقدام سے متعلق سامنے آنے والی خبریں صحیح ہوں تو سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی بھی پوری دنیا خصوصا مشرق وسطی میں امریکی فوج کو داعش جیسے دہشت گرد گروہوں جیسا ہی قرار دے گی۔
یہ دونوں موقف دشمنوں کے مقابلے میں ایران کی سفارتی، دفاعی اور فوجی ہم آہنگی کا واضح مصداق ہیں۔ سفارتی اور دفاعی ہم آہنگی کی وجہ سے ہی اسلامی جمہوریہ ایران نے مغربی ایشیا کے اسٹریٹیجک خطے میں موثر کردار ادا کیا ہے۔ آج شام اور عراق میں ایران کی سفارت کاری اور فوجی مشاورت کی وجہ سے ہی خطے میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی برسہا برس کی سازشیں نقش بر آب ہوئی ہیں۔ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے خلاف امریکی حکومت کے غصے اور دھمکیوں کا بھی اسی تناظر میں جائزہ لیا جانا چاہئے۔
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی ایک عوامی ادارہ ہے جس نے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد اسلامی انقلاب کی اقدار کا بھرپور انداز میں دفاع کیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ دشمنوں کے خطرات کو بھی دور کیا ہے۔ عالمی امور میں رہبر انقلاب اسلامی کے مشیر علی اکبر ولایتی نے اس بات کو بیان کرتے ہوئے، کہ امریکہ خطے میں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کردار سے آگاہ ہے، کہا کہ اگر سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی فوجی مشاورت نہ ہوتی تو عراق اور شام کی موجودہ جمہوری حکومتوں کے بجائے امریکہ کا پٹھو یعنی دہشت گرد گروہ داعش بغداد اور دمشق پر حکومت کر رہا ہوتا۔