امریکی حکومت کو پاکستانی وزیرخارجہ کی نصیحت
پاکستان کے وزیر خارجہ نے واشنگٹن کو نصیحت کی ہے کہ وہ حقائق کو سمجھتے ہوئے افغان جنگ میں شکست سے دوچار ہونے والے ریٹائرڈ جنریلوں کے موقف پر توجہ نہ دے کیونکہ طالبان پر افغانستان کا کوئی اثر نہیں ہے۔
پاکستان کے وزیرخارجہ خواجہ محمد آصف نے اس ملک کی سینیٹ میں اپنے خطاب کے دوران کہا کہ افغانستان کے بارے میں واشنگٹن کی نئی حکمت عملی جنگ افغانستان میں شکست کھانے والے ریٹائرڈ جنریلوں نے تیار کی ہے تاہم وہ حقائق کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں- انھوں نے کہا کہ ہم کابل حکومت کو بھی نصحیت کرتے ہیں کہ وہ اپنی ناکامیوں کے سلسلے میں ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرے اور افغانستان کی داخلی صورت حال پر توجہ دے- پاکستان کے وزیرخارجہ نے تاکید کے ساتھ کہا کہ طالبان پر پاکستان کا کوئی اثر و نفوذ نہیں ہے اور اس گروہ کو نئے مالی ذرائع مل گئے ہیں - خواجہ محمد آصف نے کہا کہ امریکی وزیرخارجہ طالبان کے ساتھ سمجھوتے کے لئے آئے ہیں تاہم وہ حقانی گروہ کے ساتھ نرم رویہ اختیار کرنے کے لئے تیار نہیں ہے- انھوں نے کہا کہ امریکہ نے ماضی میں امن کے عمل کو سبوتاژ کیا ہے کیونکہ جب طالبان مذاکرات کے لئے تیار تھے اس وقت امریکہ نے سابق طالبان رہنما ملا عمر کی موت کا راز فاش کردیا- پاکستانی سینیٹ میں خواجہ محمد آصف کے بیان میں امریکہ کو نصیحت کرنے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ حکومت اسلام آباد، پاکستان سے افغانستان اور امریکہ کی توقعات کو اپنی ظرفیت و توانائیوں سے بڑھ کر سمجھتی ہے اور خواجہ محمد آصف کا خیال ہے کہ یہ توقعات، حقائق کے مطابق نہیں ہیں- پاکستانی سینٹ کے ممبران سے ملک کے وزیرخارجہ کے بیانات کا اصلی محور افغانستان سے متعلق امریکی صدر ٹرمپ کی نئی اسٹریٹیجی تھی - یہ اسٹریٹیجی کہ جو گذشتہ اگست کے مہینے میں ٹرمپ کی جانب سے اعلان کی گئی ہے اس میں پاکستان پر افغانستان میں دہشتگردانہ کارروائیاں انجام دینے والے دہشتگردوں کی حمایت اور انھیں پناہ دینے کا الزام لگایا گیا ہے- پاکستان کے وزیرخارجہ خواجہ محمد آصف کا خیال ہے کہ یہ اسٹریٹیجی افغانستان میں شکست سے دوچار ہونے والے ریٹائرڈ جنریلوں کی تیار کردہ ہے جس میں افغانستان کے مسائل کی اصلی وجہ ، جنگ کا جاری رہنا اور طالبان سے جنگ یا مذاکرات کے پروگرام کی ناکامی کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دیا گیا ہے- امریکیوں کا کہنا ہے کہ پاکستان ، دہشتگردوں کو پناہ دے کر افغانستان میں دہشتگردی کے خلاف جنگ میں خلل ڈالنے کے ساتھ ہی افغانستان میں قیام امن کے لئے طالبان کو مذاکرات کی میز پرلانے کے سلسلے میں سنجیدہ تعاون کرنے کے لئے تیار نہیں ہے- اگرچہ پاکستان نے ماضی میں اس دعوے کو بارہا مسترد کیا ہے تاہم پاکستان پر وائٹ ہاؤس کا دباؤ بڑھ جانے کے بعد گذشتہ تین مہینوں میں اب تک دو بار خواجہ محمد آصف کی جانب سے یہ اعلان کیا گیا ہے کہ طالبان پر اسلام آباد کا اثر و رسوخ نہیں ہے - اور اس طرح پاکستان امریکہ پر یہ واضح کردینا چاہتا ہے کہ اسلام آباد کے اندر طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کی توانائی نہیں ہے- جبکہ کابل حکومت کا خیال ہے کہ ، طالبان پر پاکستان کا اثر و نفوذ نہ ہونے کے موضوع کو افغانستان میں امن مذاکرات کے عمل میں عدم تعاون کے جواز کے لئے اٹھایا جا رہا ہے-
افغانستان کے سیاسی امور کے ماہر احمد سعیدی کا کہنا ہے کہ پاکستان ، طالبان اور کابل حکومت کے درمیان امن مذاکرات کے لئے سچائی کے ساتھ عملی قدم نہیں اٹھا رہا ہے- تقریبا ایک سال قبل پاکستان سے شائع ہونے والے روزنامہ ڈیلی ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ نے طالبان پر اسلام آباد کے اثر ونفوذ کے بارے میں افغانستان کے موقف کی ایک طرح سے تصدیق کی تھی - اس رپورٹ کے مطابق پاکستان کی وزارت خارجہ نے اس ملک کی سینیٹ میں ایک رپورٹ پیش کرکے اعتراف کیا تھا کہ پاکستان طالبان کے ساتھ خفیہ مذاکرات کررہا ہے تاہم اسلام آباد کی مجموعی پالیسی یہ ہے کہ یہ مذاکرات پوشیدہ رکھے جائیں - انھیں دلائل اور صورت حال کے پیش نظر افغانستان اور امریکہ کے لئے یہ تسلیم کرنا مشکل ہے کہ پاکستان ، طالبان پر اثرو نفوذ نہیں رکھتا- ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اسلام آباد حکومت، امریکہ اور افغانستان سے کوئی گولڈن مراعات حاصل کئے بغیر امن مذاکرات کی میز پر طالبان کو لانے کے لئے اپنے اثرونفوذ کو استعمال کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔