پاکستان و افغانستان کے مشترکہ جرگے کی تشکیل
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i322584-پاکستان_و_افغانستان_کے_مشترکہ_جرگے_کی_تشکیل
پاکستان اور افغانستان کے قبائلی بزرگوں نے مشترکہ سرحدی علاقے شورکی میں جرگہ بلایا اور دونوں ملکوں کی بارڈر سیکورٹی فورس کے درمیان جنگ بندی قائم اور برقرار رکھنے پر اتفاق کیا
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Apr ۲۴, ۲۰۱۸ ۱۱:۲۰ Asia/Tehran
  • پاکستان و افغانستان کے مشترکہ جرگے کی تشکیل

پاکستان اور افغانستان کے قبائلی بزرگوں نے مشترکہ سرحدی علاقے شورکی میں جرگہ بلایا اور دونوں ملکوں کی بارڈر سیکورٹی فورس کے درمیان جنگ بندی قائم اور برقرار رکھنے پر اتفاق کیا

اس جرگے میں میں پاکستان کے توری اور کرم قبیلے اور افغانستان کے زازی قبیلے کے سرداروں اور مقامی حکام نے شرکت کی اور صلاح و مشورے کے ذریعے سرحدی تنازعات کے حل پرتاکید کی - افغانستان اور پاکستان کی مشترکہ سرحدوں کے دونوں طرف آباد قبائل کے سرداروں کا اجلاس صوبہ خوست میں دونوں ملکوں کے بارڈرسیکورٹی فورس کے درمیان حالیہ جھڑپوں اور ان میں متعدد افراد کی ہلاکتوں کے بعد منعقد ہوا ہے - اس بات کے پیش نظر کہ افغانستان و پاکستان کے سیاسی و فوجی حکام کے درمیان سرحد پر سیکورٹی کے لئے منعقد ہونے مذاکرات کامیاب نہیں رہے ہیں اور دونوں طرف کے سرحدی علاقے کے عوام  کو کشیدگی جاری رہنے کا سب سے زیادہ نقصان ہو رہا ہے ، قبائل کے سرداروں نے میدان میں آکر مسئلے کوجرگے کے ذریعے روایتی طریقے سے حل کرنے کی کوشش کی ہے- اس بات کے پیش نظر کہ افغانستان و پاکستان کی سرحدوں کے دونوں طرف کے قبائل کے درمیان خاندانی تعلقات اور رشتیداریاں ہیں، وہ باہمی تعاون کے ذریعے سرحدی علاقوں میں سیکورٹی قائم کرسکتے ہیں بس شرط یہ ہے کہ بارڈرسیکورٹی فورسز بھی لازمی تعاون کریں- اسی وجہ سے افغانستان و پاکستان کے فوجی و سیاسی حکام اس سلسلے میں قبائل کے درمیان تعاون کا خیرمقدم کررہے ہیں-

کرم ایجنسی سے رکن قومی اسمبلی پاکستان ساجد حسین کا کہنا ہے کہ : توری و زازی قبائل کہ جو سرحد کے دونوں جانب رہتے ہیں ایک دوسرے کے رشتیدار ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اس جرگے میں اہم فیصلے کئے گئے ہیں جن میں دونوں ملکوں کے سرحدی قبائل کے سرداروں اور ماہرین پر مشتمل احیاء کمیٹی کی تشکیل بھی شامل ہے- 

اس بنا پر سیاسی حلقوں کی نظر میں افغانستان اور پاکستان کی مشترکہ سرحدوں پرسیکورٹی مسئلے کا تعلق نہ صرف یہ کہ سرحدی علاقوں میں رہنے والوں اور قبائل سے نہیں ہے بلکہ اس میں خفیہ ہاتھ ہے جو سرحدی کشیدگی کو ھوا دے کر ایک طرف قبیلوں کو ایک دوسرے سے لڑانا چاہتا ہے اور دوسری جانب اسلام آباد اور کابل کے درمیان کشیدگی دور کرنے کے پروگرام پر عمل درآمد میں بھی رکاوٹ بننا چاہتا ہے کہ جو پاکستان کے وزیراعظم شاہدخاقان عباسی کے حالیہ دورہ افغانستان کے بعد نئے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے-

ایک افغان قبیلے کے سردار سید اصغر اکاخیل کا کہنا ہے کہ : ایسے خفیہ ہاتھ ہیں جو دونوں ملکوں کی مشترکہ سرحدوں پرجھڑپوں اور فتنے میں ملوث ہیں جنھیں ہمہ گیر تعاون سے ناکام بنانا چاہئے-

بہرحال افغانستان و پاکستان کے مشترکہ سرحدی علاقوں کے قبائل کے درمیان کشیدگی کو ایسے عالم میں ھوا دی جا رہی ہے کہ حالیہ برسوں میں افغانستان پر غاصبانہ قبضے کے زمانے اور افغانستان میں داخلی بحران کے دور میں پاکستان کے سرحدی قبائل افغان سرحدی قبائل کے میزبان تھے- بنا بریں ان قبائل کے سردار یہ برداشت نہیں کرسکتے کہ کچھ موقع پرست اورحکومت و اغیار سے وابستہ افراد مشترکہ سرحدوں پر برادرکشی کا بازار گرم کریں - اس بنا پر قبائل کے سرداروں نے حالیہ سرحدی جھڑپوں میں مداخلت کرکے ایک طرح سے سازشی عناصراور اشرار کو انتباہ بھی دیا ہے-