ایران اور خود مختاری کا تحفظ
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i349977-ایران_اور_خود_مختاری_کا_تحفظ
ملک کی خود مختاری، ارضی سالمیت اور قومی سلامتی پر ذرہ برابر آنچ نہیں آنے دی جائے گی۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Jun ۰۳, ۲۰۱۹ ۱۲:۳۹ Asia/Tehran
  • ایران اور خود مختاری کا تحفظ

ملک کی خود مختاری، ارضی سالمیت اور قومی سلامتی پر ذرہ برابر آنچ نہیں آنے دی جائے گی۔

ایران کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل محمد باقری نے بانی انقلاب اسلامی کی تیسویں برسی کے موقع پرایک پیغام میں اس اصول پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی دفاعی طاقت اور علاقائی اقتدار مکتب امام خمینی رح اور آیت اللہ العظمی خامنہ ای کی زندہ قیادت کا نتیجہ ہے- جنرل باقری نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ ملت ایران، ملک کی دفاعی صلاحیتیں بڑھانے سے پیچھے نہیں ہٹے گی تاکید کی کہ ایران کے عوام ، دشمن کی ہردھمکی و خطرے کو انقلابی ثمرات کی توسیع کے لئے سنہری موقع میں تبدیل کردیں گے-امریکہ اپنے جنونی اقدامات سے ملت ایران کو ڈرانے دھمکانے اور مرعوب و خوف زدہ کرنے کی کوشش کررہا ہے- امریکی حکام نے چاہے وہ ٹرمپ ہو یا جان بولٹن اور پمپئو ہمیشہ اس دشمنی پر اڑے رہے ہیں لیکن وہ اپنی بدسلوکی اور برے رویے کا کسی نہ کسی طرح جواز پیش کرنا چاہتے ہیں- امریکی وزیرخارجہ مائک پمپئو نے اتوار کو برن میں سوئزرلینڈ کے وزیرخارجہ ایگنازیو کیسس کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں اس سلسلے میں کہا کہ : واشنگٹن ، ایران کے ساتھ بلاقید و شرط مذاکرات کے لئے تیار ہے تاہم انھوں نے ایسی حالت میں بلاقید و شرط مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی ہے کہ وہ اپنے بیانات  میں ایران کا رویہ بدلنے پر بھی تاکید کرتے رہے ہیں- ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سید عباس موسوی نے ان بیانات پرردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ تہران کے لئے الفاظ سے کھیلنا اور جدید کلمات کے قالب میں خفیہ اہداف کو بیان کرنا معیار نہیں ہے بلکہ مجموعی رویے میں تبدیلی اور ملت ایران کے سلسلے میں امریکہ کا عملی رویہ معیار ہے-

 رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے مذاکرات میں دشمن کے اصلی ہدف کے سلسلے میں فرمایا ہے کہ : کسی بھی ملک کے لئے سیکورٹی و سیاسی اسٹریٹیجی کی گہرائی ، بنیادی مسئلہ ہوتی ہے اور ہمارے لئے بھی علاقے میں ہماری  دقیق اسٹریٹیجی بھی بہت اہمیت رکھتی ہے اور وہ اسی  سے سیخ پا ہیں اور وہ ایران کی نہایت دقیق اسٹریٹیجی کے موضوع پر معاملہ کرنا چاہتے ہیں ، کیا یہ کوئی قبول کرے گا-

رہبر انقلاب اسلامی نے تاکید کے ساتھ فرمایا کہ ان حقائق کی بنیاد پر امریکہ تو کیا کسی معتبر آدمی سے بھی مذاکرات کرنا غلط ہے اور ان لوگوں سے مذاکرات کرنا جو اخلاق ، قانون اور بین الاقوامی عرف سمیت کسی بھی چیز کے پابند نہیں ہیں ، مذاق ہے اور کوئی معنی نہیں رکھتا-

جیسا کہ رہبر انقلاب اسلامی نے تاکید فرمائی ہے کہ دشمن کے مقابلے میں صرف دو راستے ہیں یا ہم  پسپائی اختیار کرلیں اور وہ آگے بڑھ آئیں اور یا استقامت و پائداری اور اسلامی جمہوریہ ایران میں ہمارے تجربے نے ثابت کردکھایا ہے کہ ہم نے جہاں بھی دشمن کا مقابلہ کیا وہاں کامیاب رہے-

البتہ بہت سے دلائل موجود ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ کو ایران سے مذاکرات کرنے کی سخت ضرورت ہے کیونکہ دنیا میں امریکی طاقت و ہیبت کا بھرم ٹوٹ رہا ہے - لیکن اسلامی جمہوری نظام آج نہ صرف کمزور پوزیشن میں نہیں ہے بلکہ جیسا کہ ایران کی مسلح افواج کے سربراہ کے بیان کے ایک حصے میں کہا گیا ہے : ایران کی علاقائی طاقت اور دقیق اسٹراٹیجی اس بات کا باعث ہوئی ہے کہ مغربی ایشیاء کا کوئی بھی مسئلہ ایران کے بغیر حل ہونے والا نہیں ہے- اسلامی جمہوریہ ایران ، علاقے میں ہرگز فوجی جھڑپ اور کشیدگی نہیں چاہتا لیکن دشمن کے مقابلے میں ملت ایران کا آپشن تمام میدانوں میں استقامت کا مظاہرہ کرنا ہے اور اس بنا پر اس اصول کے برخلاف کسی بھی طرح کا گمان ، ملت ایران کی اندرونی صورت حال کے غلط جائزے کی علامت ہے-