فروری دوہزار سولہ میں عالمی معیشت میں گراوٹ
https://urdu.sahartv.ir/news/echonomic_news-i215083-فروری_دوہزار_سولہ_میں_عالمی_معیشت_میں_گراوٹ
ماہرین اقتصادیات نے کہا ہے کہ رواں سال کے پہلے مہینے کے دوران دنیا بھر میں صنعتی پیداوار کی رفتار سست رہی۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Mar ۰۶, ۲۰۱۶ ۱۸:۰۳ Asia/Tehran
  • فروری دوہزار سولہ میں عالمی معیشت میں گراوٹ

ماہرین اقتصادیات نے کہا ہے کہ رواں سال کے پہلے مہینے کے دوران دنیا بھر میں صنعتی پیداوار کی رفتار سست رہی۔

اقتصادی ماہرین کے مطابق فروری دوہزار سولہ میں یورپ اور امریکا میں صنعتی پیداوارکم رہی جبکہ ایشیا میں بھی پیداواری سرگرمیوں میں گراوٹ کا مشاہدہ کیا گیا۔

بین الاقوامی مالیاتی ادارے جے پی مورگن کے ڈائریکٹر ڈیوڈ ہینسلے کی رپورٹ کے مطابق فروری کے دوران عالمی مینوفیکچرنگ پرچیزنگ مینیجر انڈیکس پچاس پوائنٹ رہا جو ترقی اور زوال کے درمیان ایک لکیر ہے۔

انہوں نے کا کہ اس عرصے کے دوران نئے کاروبار اور پیداواری سرگرمیوں کو بمشکل ہی فروغ مل سکا جبکہ بین الاقوامی تجارت زوال کا شکار رہی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ یورپی ملکوں میں پیداواری سرگرمیاں ہلکے انداز میں فروغ پذیر رہیں جہاں پی ایم آئی انڈیکس جنوری کی سطح باون اعشاریہ تین پوائنٹ سے گر کر فروری میں اکیاون اعشاریہ دو پر آگیا۔

جرمنی میں پیداواری سرگرمیاں بمشکل بڑھیں تاہم یہ پندرہ ماہ کی کم ترین سطح پر رہیں۔برطانیہ کی پیداواری سرگرمیاں تین سال کی کم ترین سطح پر رہیں جس کی وجہ مصنوعات کی ملکی و بیرونی طلب میں کمی ہے۔ امریکا میں پیداواری سرگرمیاں مسلسل پانچویں ماہ سستی کا شکار رہیں ۔

جاپان کی پیداواری سرگرمیاں مسلسل آٹھویں مہینے بھی کمی کا شکار رہیں ،انڈونیشیاء میں مسلسل سترہویں مہینے جبکہ ملائیشیاء میں گیارہویں ماہ بھی پیداواری سرگرمیاں کمی کا شکار رہیں۔

ایشیا کی سب سے بڑی اقتصادی طاقت چین کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ فروری کے دوران چین کی پیداواری سرگرمیاں مسلسل ساتویں مہینے بھی گراوٹ سے دوچار رہیں اور اس کا پرچیزنگ مینیجر انڈیکس انچاس پوائنٹ رہا۔چین کی کائی شین مارکیٹ کا پی ایم آئی انڈیکس گر کر اڑتالیس پوائنٹ پر آگیا جو جنوری میں اڑتالیس پوائنٹ پر تھا۔

رپورٹ کے مطابق ایشیا میں ہندوستان ایک ایسا ملک تھا جو بمشکل درمیانے انداز میں پیداواری سرگرمیاں جاری رکھ سکا۔