بنگلور میں سڑک حادثہ ، غیر ملکی طالبہ تشدد کا نشانہ
https://urdu.sahartv.ir/news/india-i210046-بنگلور_میں_سڑک_حادثہ_غیر_ملکی_طالبہ_تشدد_کا_نشانہ
ہندوستان کے جنوبی شہر بنگلورو میں سڑک حادثے میں ایک خاتون کے ہلاک ہونے پر مشتعل ہجوم نے ایک غیر ملکی طالبہ کو تشدد کو نشانہ بنایا ہے -
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Feb ۰۴, ۲۰۱۶ ۱۶:۱۴ Asia/Tehran
  • بنگلور میں سڑک حادثہ ، غیر ملکی طالبہ تشدد کا نشانہ

ہندوستان کے جنوبی شہر بنگلورو میں سڑک حادثے میں ایک خاتون کے ہلاک ہونے پر مشتعل ہجوم نے ایک غیر ملکی طالبہ کو تشدد کو نشانہ بنایا ہے -

ہندوستانی میڈیا رپورٹوں کے مطابق بنگلورو میں سڑک حادثے میں ایک عورت کے ہلاک ہو جانے پر مشتعل ہجوم نے غیر ملکی طالب علموں کی گاڑی پر حملہ کردیا جس کے دوران گاڑی میں سوارتنزانیہ کی اکیس سالہ طالبہ کو شدیدتشدد کا نشانہ بنایا - اس حملے میں اس طالبہ کے کپڑے بھی پھٹ گئے - بتایا جاتاہے کہ بنگلورو شہر کی عورت اسی گاڑی سے کچل کر ہلا ک ہوئی تھی- نئی دہلی میں تنزانیہ کے سفارتخانے نےحکومت ہندوستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس واقعے کا فوری طور پرنوٹس لے - جبکہ ہندوستان کی وزیرخارجہ سشما سوراج نے تنزانیہ کی طالبہ پر اس حملے کو شرمناک قرار دیتے ہوئے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے - اس سے پہلے خبروں میں کہا گیا تھا کہ تشدد کا نشانہ بننے والی تنزانیہ کی طالبہ کو مشتعل ہجوم نے برہنہ کرکے پریڈ کرنے پر بھی مجبور کیا تھا - تاہم ریاست کرناٹک کے ڈی جی پی اوم پرکاش نے خود متاثرہ طالبہ کے حوالے سے کہا ہے کہ اس نے یہ بات نہیں کہی ہے کہ اسے برہنہ کرکے پریڈ کرنے پر مجبور کیا گیا تھا - واضح رہے کہ ہندوستانی وزارت داخلہ نے ریاستی حکومت سے چوبیس گھنٹے کے اندر واقعے کی رپورٹ پیش کرنے کو کہا ہے - دوسری جانب تنزانیہ کے ہائی کمشنر نے اس حملے کو نسل پرستانہ قرار دیا ہے - تنزانیہ کے ہائی کمشنر نے کہا ہے کہ میرے خیال میں تنزانیہ کی طالبہ پر اس لئے حملہ کیا گیا کہ وہ سڑک حادثے کے ذمہ دار لڑکے کی ہی طرح سیاہ فام تھی - تنزانیہ کے ہائی کمشنر کا کہنا ہے کہ وہ ہندوستانی حکومت سے رابطے میں ہیں - اس درمیان ریاست کرناٹک کے وزیرداخلہ نے تنزانیہ کے ہائی کمشنر کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تنزانیہ کی طالبہ پر یہ حملہ نسل پرستانہ نوعیت کا نہیں تھا -