ہندوستان: ہریانہ کے کئی شہروں میں اب بھی کرفیو جاری
ہندوستان کی ریاست ہریانہ میں ریزرویشن کے حق میں جاٹ برادری کے پرتشدد مظاہرے تھم گئے ہیں تاہم کئی شہروں میں ابھی بھی کرفیو نافذ ہے۔
خبروں میں بتایا گیا ہے کہ ریاست ہریانہ کے ہیسا، ہانسی اور بھیوانی شہروں میں ابھی بھی کرفیو نافذ ہے جبکہ مظاہروں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے روہتک شہر میں منگل کو کرفیو میں چار گھنٹے کی ڈھیل دی گئی۔ اس درمیان اطلاعات ہیں کہ جاٹ برادری کے مظاہرین اب مختلف علاقوں میں سڑکوں اور ریلوے لائنوں پر کھڑی کی گئی رکاوٹوں کوہٹا رہے ہیں۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ پانی پت تک انبالہ - دہلی اہم شاہراہ کھل گئی ہے اور جیسے ہی سونی پت میں حالات معمول پر آئیں گے، آگے کے راستے بھی کھل جائیں گے۔ یاد رہے کہ سرکاری ملازمتوں میں ریزرویشن کے مطالبے کو لے کر جاٹ برادری کی جانب سے ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے دوران انیس لوگوں کی جانیں گئیں جبکہ بڑے پیمانے پر مالی نقصان ہوا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق ان مظاہروں کے دوران بارہ سو کروڑ روپئے سے زیادہ کا نقصان ہوا۔ کئی روز تک چلے مظاہروں کی وجہ سے سیکڑوں ٹرینوں کو منسوخ کرنا پڑا جبکہ متعدد ٹرینوں، سیکڑوں بسوں اور گاڑیوں، ریلوے اسٹیشنوں، بس اڈوں، سرکاری عمارتوں، پبلک مقامات، تجارتی مراکز اور بے شمار دوکانوں کو آگ لگا دی گئی۔ مظاہروں کے دوران تقریبا دو سو افراد زخمی ہوئے جبکہ دہلی کے لئے پانی کی سپلائی میں بھی شدید مشکلات پیش آئیں۔ اطلاعات ہیں کہ فوج اور سیکورٹی فورس نے دہلی کے لئے پانی سپلائی کرنے والے ڈیم اور مونک نہر کو کلیئر کرا لیا ہے۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ ہریانہ کے جاٹ آبادی والے اکثریتی علاقوں میں ابھی بھی صورت حال کشیدہ تاہم قابو میں ہے۔ روہتک شہر کے ایک سینئر پولیس افسر نے کہا ہے کہ گذشتہ جوبیس گھنٹوں میں شہر میں کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ مذکورہ پولیس افسر کا کہنا تھا کہ حالات کے پوری طرح معمول پر آجانے تک ان علاقوں میں کرفیو نافذ رہے گا جہاں جاٹوں کی اکثریت ہے۔ اس درمیان ہریانہ کے وزیر اعلی منوہر لاکھٹّر جب منگل کو روہتک پہنچے تو انہیں لوگوں کی ناراض بھیڑ کا سامنا کرنا پڑا۔ اس موقع پر لوگوں نے وزیر اعلی اور پولیس کے خلاف نعرے لگائے۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ پولیس تشدد پر اترے ہوئے مظاہرین کو قابو کرنے میں ناکام رہی۔ روہتک کے شہریوں نے مظاہرین کے بھیس میں توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ وزیر اعلی کو ناراض بھیڑ نے کالے جھنڈے بھی دکھائے، تاہم وزیر اعلی نے لوگوں کو یقین دلایا کہ جن لوگوں نے عوام کی املاک اور گھروں اور اسی طرح سرکاری عمارتوں اور املاک کو نقصان پہنچایا ہے، انہیں بخشا نہیں جائے گا۔ واضح رہے کہ مرکزی حکومت نے اتوار کی رات اعلان کیا تھا کہ اس نے جاٹ برادری کو ریزرویشن دینے کے معاملے پر ایک بااختیار کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ اس کے بعد سے ہی جاٹ برادری کے مظاہروں کی شدت میں کمی واقع ہوئی۔