جمعیت علمائے ہند کی قومی یکجہتی کانفرنس، فرقہ پرستی کی مذمت
جمعیت علمائے ہند کی قومی یکجہتی کانفرنس میں فرقہ پرستی کی مذمت کرتے ہوئے آپسی بھائی چارے، رواداری اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی پر زور دیا گیا۔
نئی دہلی کے اندرا گاندھی اسٹیڈیم میں ہونے والی قومی یکجہتی کانفرنس میں مقررین نے آزادی اظہار رائے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ہم آزادی اظہار رائے کی لڑائی میں ملک کے اعلی تعلیمی اداروں جے این یو کی طلبا یونین کے صدر کنہیا کمار کے ساتھ ہیں اور حیدرآباد میں خودکشی کرنے والے طالب علم روہت ویمولا کے بھی نظریات کی حمایت کرتے ہیں- مقررین نے کہا کہ ملک کے ہر تعلیمی ادارے میں طلبا کو آزادی بیان کا حق ملنا چاہئے-
جمیعت علمائے ہند کے سربراہ مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ جب جے این یو کا معاملہ شروع ہوا تو اس وقت انہوں نے جان بو جھ کر اپنی رائے پیش نہیں کی کیونکہ اس وقت کچھ طاقتیں اس مسئلے کو ہندو مسلم کا مسئلہ بنا دیتیں- انہوں نے کہا کہ ہم جے این یو اور دیگر سبھی تعلیمی اداروں میں آزادی بیان کی حمایت کرتے ہیں اور کنہیا کمار نے جو جنگ لڑی ہے ہم اس کے ساتھ ہیں-
کانفرنس میں کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کا بھی تحریری پیغام کانگریس کے سینئر رہنما اور راجیہ سبھا میں کانگریس کے پارلیمانی لیڈر غلام نبی آزاد نے پڑھ کر سنایا- سونیا گاندھی نے اپنے اس پیغام میں کہا کہ فرقہ پرست طاقتیں ملک کو توڑنے میں لگی ہوئی ہیں اس کے خلاف سب لوگوں کو ایک ساتھ آنا ہو گا- کانفرنس میں مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی کے رکن پارلیمنٹ محمد سلیم نے بھی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جے این یو کا معاملہ اٹھا کر ملک کے بنیادی مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے - انہوں نے آر ایس ایس کو نشانے پر لیتے ہوئے کہا کہ اس تنطیم کو آزادی کے لفظ سے پریشانی ہے- سی پی ایم کے رہنما محمد سلیم نے کہا کہ آر ایس ایس کو ملک کی آزادی سے پہلے بھی لفظ آزادی سے پریشانی تھی- کانگریس کے ایک اور سینئر لیڈر منی شنکر ایّر نے بھی کہا کہ ملک کی سالمیت کا دارومدار سیکولرزم پر ہے- کانفرنس سے مولانا محمود مدنی ، ایم افضل ، آچاریہ پرمود کرشنن اور شاہد منظور جیسے لیڈروں نے بھی خطاب کیا -