ہندوستان کی مشرقی ریاست جھارکھنڈ میں پانچ ملزموں کی گرفتاری
ہندوستان کی مشرقی ریاست جھارکھنڈ کے ضلع لاتیہار میں دوہرے قتل کے معاملے میں پانچ ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔
خبروں کے مطابق جمعے کوضلع لاتیہار کےگاؤں بالوماتھ کے جنگل میں دو مسلمانوں کی لاشیں درخت پرلٹکی پائی گئی تھیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ دونوں مویشیوں کا کاروبار کرتے تھے۔ مظلوم انصاری اور امتیاز خان نامی دونوں کو بے دردی کے ساتھ قتل کر کے ان کی لاشیں درخت پر لٹکا دی گئی تھیں۔ اس واقعے کے بعد مقامی لوگوں نے شدید احتجاج کیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ قتل کی واردات میں آٹھ لوگ ملوث تھے جن میں سے پانچ کو گرفتار کر لیا گیا۔ گرفتار کئے گئے ملزمان میں ایک متھلیش ساہو بھی ہے جو گئورچھا منچ نامی تنظیم کا رکن بتایا جاتا ہے۔ لاتیہار قتل کے معاملے کی تفتیش کرنے والےمتعلقہ تھانہ انچارج نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ قتل کا یہ معاملہ گئو کشی کے خلاف جاری تحریک سے بھی جڑا ہو سکتا ہے۔ اس درمیان ریاست جھارکھنڈ میں اپوزیشن جماعتوں نے ریاست میں حکمراں بی جے پی کو نشانے پر لیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ قاتلوں کو حکمراں جماعت کی پشتپناہی حاصل ہے۔ ریاست کے سابق وزیراعلی اور جھارکھنڈ وکاس مورچہ کے سربراہ بابولال مرانڈی نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کے دور میں فرقہ وارانہ واقعات میں میں اضافہ ہوا ہے اور حالت یہ ہے کہ اس وقت کہیں بھی کوئی محفوظ نہیں ہے۔