کشمیر میں چھبیسویں دن بھی حالات کشیدہ، کرفیوں اور مظاہرے
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں صورت حال بدستور کشیدہ ہے اور مختلف علاقوں میں کرفیوں اور دفعہ ایک سو چوالیس کے باوجود پرتشدد مظاہروں کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔
سری نگر سے ہمارے نمائندے نے پولیس کے حوالے سے بتایا ہے کہ شہر قدیم کے پانچ پولیس اسٹیشنوں کی حدوں میں کرفیو کا نفاذ اب بھی جاری ہے۔ تعلیمی ادارے، کاروبار اور ٹرانسپورٹ کا سلسلہ بند ہے تاہم شہر کے مختلف علاقوں میں مظاہرے کئے جا رہے ہیں۔ ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کے انسپیکٹر جنرل پولیس کا کہنا ہے کہ وادی میں حالات بدستور کشیدہ ہیں تاہم سیکورٹی فورس کے کنٹرول میں ہیں۔ دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ سیکورٹی فورس کی فائرنگ میں ایک اور نوجوان جاں بحق ہو گیا۔ مقامی لوگوں کو کہنا ہے کہ مذکورہ نوجوان، اے ٹی ایم انسپیکٹر تھا اور اسے ڈیوٹی کے دوران گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ نوجوان کی موت کے بعد اس کے آبائی علاقے چتہ بل میں لوگوں نے مظاہرے کئے اور سی آر پی ایف کو اس کے قتل کا ذمہ دار قرار دیا۔ بعض خبروں کے مطابق کشمیر کے مختلف علاقوں میں ہونے والے مظاہروں میں مزید تین افراد جاں بحق ہوئے ہیں جس کے بعد آٹھ جولائی سے کشمیر میں جاری ہڑتال اور مظاہروں کے دوران مرنے والوں کی تعداد ساٹھ ہو گئی ہے۔ واضح رہے کہ کشمیر کی حریت کانفرنس کے سرکردہ رہنماؤں نے پانچ اگست تک ہڑتال اور مظاہرے جاری رکھنے کی اپیل کی ہے۔