ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں جمعے کے روز بھی پرتشدد مظاہرے
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں پرتشدد مظاہروں اور احتجاج کا سلسلہ اٹھائیسویں روز بھی جاری رہا جس کے دوران کم سے کم پچاس افراد زخمی ہوئے۔
سری نگر سے ہمارے نمائندے مطابق سخت کرفیو اور دفعہ ایک سو چوالیس کے نفاذ کے باوجود پورے کشمیر میں مظاہروں کا سلسلہ جمعے کو بھی جاری رہا جس کے دوران کئی مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔ جھڑپوں میں کم سے کم پچاس مظاہرین کے زخمی ہونے کی خبر ہے۔ پولیس نے سرکردہ کشمیری رہنماؤں سید علی شاہ گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور مسرور عباس انصاری کو اس وقت گرفتار کرلیا جب وہ درگاہ حضرت بل کی جانب مارچ کی قیادت کر رہے تھے۔ مزاحمتی جماعتوں نے جمعے کو کشمیر کے عوام سے درگاہ حضرت بل کی جانب مارچ کرنے کی اپیل کی تھی جسے ناکام بنانے کے لئے ہندوستانی پولیس اور سیکورٹی فورس نے کرفیو کا نفاذ پہلے سے زیادہ سخت کردیا تھا۔ کشمیر کے کسی بھی علاقے میں اس ہفتے بھی کسی مقام پر نماز جمعہ کی ادائیگی کی اجازت نہیں دی گئی۔ کاروباری مراکز، تعلیمی ادارے مسلسل اٹھائیسویں روز بھی بند رہے اور موبائل اور انٹرنیٹ سروس بھی جزوی طور پر معطل ہے۔ بدھ کے روز ہونے والے مظاہروں کے دوران سو سے زائد افراد زخمی ہو گئے تھے جبکہ پانچ سو سے زائد افراد کو گرفتار بھی کرلیا گیا تھا۔ کشمیر میں آٹھ جولائی سے احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے جس کے دوران ساٹھ سے زائد افراد جاں بحق اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔