ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں پرتشدد مظاہرے
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور ہفتے کو بھی مختلف علاقوں میں مظاہرین اور پولیس کےدرمیان جھڑپیں ہوئیں۔
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کے متعدد علاقوں میں کرفیو کے باوجود پرتشدد مظاہروں کے دوران ہفتے کو بھی متعدد افراد زخمی ہو گئے- بتایا جاتا ہے کہ بڈگام کے نوگام علاقے میں مشتعل مظاہرین اور پولیس اہلکاروں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں جن کے دوران پولیس نے پیلٹ گن کا استعمال کیا- سری نگر سے موصولہ اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ جمعے کو پرتشدد مظاہروں کے دوران تین افراد کے جاں بحق ہو جانے کے بعد ہفتے کو بھی حالات سخت کشیدہ رہے اور انتیسویں روز بھی پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا- جنوبی کشمیر کے اننتناگ اور شوپیاں میں بھی مظاہرین اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جن میں بیس سے زائد افراد ز خمی ہوئے ہیں- کرفیو، مظاہروں اورہڑتال کے باعث وادی میں معمولات زندگی بری طرح مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں- جمعے کو وادی کے مختلف علاقوں میں شدید مظاہروں اور جھڑپوں کے نتیجے میں تین افراد جاں بحق اور تین سو سے زائد زخمی ہو گئے تھے- گذشتہ آٹھ جولائی سے وادی میں جاری پرتشدد مظاہروں کے دوران جاں بحق ہونے والوں کی تعداد ساٹھ کے قریب پہنچ گئی ہے جبکہ پانچ ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں- دریں اثنا ریاست کے سابق وزیراعلی اور نیشنل کانفرنس کے رہنما عمرعبداللہ نے کشمیر کی ابترصورت حال پر وزیراعظم نریندرمودی کی خاموشی پر تنقید کی ہے- انہوں نے اپنے ٹوئٹر پیج پر لکھا ہے کہ کشمیرکی صورت حال پر مرکزی حکومت کب جاگے گی؟ انہوں نے اس خاموشی کو دل توڑنے والی اور تشویشناک بتایا۔