ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں بتیسویں روز بھی حالات سخت کشیدہ
https://urdu.sahartv.ir/news/india-i241699-ہندوستان_کے_زیرانتظام_کشمیر_میں_بتیسویں_روز_بھی_حالات_سخت_کشیدہ
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں بتیسویں روز بھی حالات بدستور کشیدہ ہیں اور وادی کے مختلف علاقوں سے پرتشدد مظاہروں کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Aug ۰۹, ۲۰۱۶ ۱۲:۵۰ Asia/Tehran
  • ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں بتیسویں روز بھی حالات سخت کشیدہ

ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں بتیسویں روز بھی حالات بدستور کشیدہ ہیں اور وادی کے مختلف علاقوں سے پرتشدد مظاہروں کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔

 سری نگر سے ہمارے نمائندے نے خبر دی ہے کہ  بدھ کو بھی وادی کے متعدد اضلاع میں کرفیو جاری رہا اور بقیہ علاقوں میں سخت بندشیں قائم ہیں- کرفیو اور ہڑتال کی وجہ سے پوری وادی میں عام لوگوں کی زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے -

اطلاعات ہیں کہ جنوبی کشمیر کے مختلف علاقوں میں شدید مظاہرے ہوئے جن کے دوران بہت سے افراد زخمی ہوئے جن میں خواتین بھی شامل ہیں- جنوبی قصبہ  اننتناگ میں اس وقت مظاہرین اور پولیس کے درمیان تصادم ہوا جب پولیس نے مظاہرین پر آنسوگیس کے گولے داغے- علیحدگی پسند جماعتوں نے آئندہ بارہ اگست تک ہڑتال کی کال دے رکھی ہے-

اس سے پہلے ریاستی وزیراعلی محبوبہ مفتی نے نئی دہلی میں اعلی حکام سے ملاقات کی ہے جبکہ ہندوستان کے وزیراعظم نریندرمودی، وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ اور قومی سلامتی کے امور کے مشیر اجیت ڈوبھال نے بھی کشمیر کے بحران پر میٹنگ کی ہے۔

اس درمیان ہندوستان کے وزیراعظم نریندر مودی نے کشمیر کے بحران پر ایک مہینے کے بعد بالآخر اپنی خاموشی توڑتے ہوئے کہا ہے کہ جن ہاتھوں میں لیپ ٹاپ ہونا چاہئے ان ہاتھوں میں پتھر آ گئے ہیں- انہوں نے ریاست مدھیہ پردیش میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ کشمیر ہندوستان کی جنت ہے اور ہر ہندوستانی کشمیر سے محبت  کرتا ہے اور وہ ایک بار  کشمیر ضرور جانا چاہتا ہے-

ہندوستان کی سبھی اپوزیشن  جماعتوں کی جانب سے کشمیرکے مسئلے پر خاموشی اختیار کرنے کی وجہ سے نریندرمودی پر سخت تنقید ہو رہی تھی- بدھ کو کشمیرکے مسئلے پر ہندوستانی پارلیمنٹ میں بھی بحث ہو گی۔

سری نگر میں ہمارے نمائندے کا کہنا ہے کہ بعض ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ  مرکزی حکومت  علیحدگی پسند جماعتوں کے رہنماؤں سے رابطہ کرنے پر بھی غور کر رہی ہے۔