پاکستانی سفیر کی ہندوستان کے دفتر خارجہ میں طلبی
حکومت ہندوستان نے پاکستانی سفیر کو طلب کر کے سرحدوں سے دراندازی کی مبینہ کوششوں پر سخت احتجاج کیا ہے۔
میڈیا رپورٹوں کے مطابق ہندوستان کے سیکریٹری خارجہ ایس جے شنکر نے پاکستانی سفیر کو دفتر خارجہ میں طلب کر کے انھیں پاکستان کی جانب سے ہونے والی دہشت گردی کے حوالے سے سخت احتجاجی مراسلہ دیا۔
احتجاجی مراسلے میں لشکر طیبہ اور حال ہی میں حراست میں لیے گئے پاکستانی شہری بہادر علی کا حوالہ دیا گیا۔ ہندوستانی سیکورٹی فورس نے بہادر علی عرف ابو سیف اللہ کو پچیس جولائی دو ہزار سولہ کو جموں و کشمیر سے گرفتار کیا تھا۔ گرفتاری کے وقت اس کے قبضے سے اسلحہ اور ہینڈ گرینیڈ بھی برآمد ہوئے تھے۔
ہندوستانی حکام کے مطابق بہادر علی نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ وہ لشکر طیبہ کے کیمپوں میں تربیت حاصل کرنے کے بعد کشمیر میں داخل ہوا تھا اور ہندوستانی سیکورٹی فورس پر حملہ کرنا چاہتا تھا۔
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں حزب المجاہدین کے کمانڈر برھان وانی کے سیکورٹی فورس کے ہاتھوں قتل کے بعد سے ہندوستان اورپاکستان کے درمیان تعلقات میں کشیدگی نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں پچھلے ایک ماہ کے دوران مظاہرین اور سیکورٹی فورس کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں اب تک ستر سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں۔ چھے ہزار افراد زخمی بھی بتائے جاتے ہیں جن میں متعدد کی حالت نازک ہے۔ پیلٹ گن کے استعمال کی وجہ سے بہت سے افراد اپنی بنیائی سے بھی محروم ہو گئے ہیں۔