ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں کرفیو اور مظاہرے جاری
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں کرفیو اور پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور جمعے کو بھی زبردست پرتشدد مظاہرے ہوئے۔
سری نگر سے موصولہ خبروں میں کہا گیا ہے کہ وادی کے جنوبی اضلاع میں اعلانیہ اور شمالی اضلاع میں غیراعلانیہ کرفیو کے باوجود لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر زبردست مظاہرے کئے - جمعے کو ہونےوالے مظاہروں کے دوران بھی متعدد افراد زخمی ہو گئے ہیں-
علیحدگی پسند جماعتوں نے بارہ اگست تک ہڑتال اور مظاہروں کی کال دے رکھی تھی- وادی میں موبائل سروس ایک بار پھر معطل کر دی گئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ بی ایس این ایل کی پوسٹ پیڈ سہولیات کو چھوڑ کے سبھی موبائل ٹیلی فون کمپنیوں کی سروس معطل ہے-
اس درمیان ہندوستان کی پارلیمنٹ لوک سبھا میں ایک بار پھر کشمیر کے بحران کی گونج سنائی دی- لوک سبھا میں سبھی پارٹیوں نے ایک قرارداد منظور کرکے کشمیر میں جاری کرفیو اور پرتشدد مظاہروں پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا-
اس درمیان ہندوستانی وزیراعظم نے کشمیر کے مسئلے پر اپنی خاموشی کو توڑتے ہوئے سبھی جماعتوں کے رہنماؤں کے ساتھ ایک اجلاس کیا- اجلاس میں وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ اور دیگر سبھی سیاسی جماعتوں کے رہنما موجود تھے- اجلاس میں کشمیر کے مسئلے پرسبھی جماعتوں کے ساتھ تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔