ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں مظاہرے، مزید چھے مظاہرین جاں بحق
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں مظاہرین پر پولیس کی مبینہ فائرنگ میں مزید چھے افراد جاں بحق اور ڈیڑھ درجن سے زائد زخمی ہوگئے۔
سری نگر سے ہمارے نمائندے کے مطابق مظاہرین پر پولیس کی فائرنگ کے تازہ واقعات کشمیر کے ضلع بڈگام اور اننت ناگ میں پیش آئے۔ عینی شاہدین کے مطابق ہندوستانی سیکورٹی فورس کے اہلکاروں نے ضلع بڈگام میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ان پر براہ راست فائرنگ کردی جس میں پانچ افراد جاں بحق اور تیرہ زخمی ہوگئے۔ اننت ناگ میں بھی مظاہرین پر سیکورٹی فورس کی فائرنگ میں ایک شخص جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ ادھر ہندوستان کے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے ایک اعلی سحطی اجلاس کے دوران کشمیر کی تازہ ترین صورتحال کا جائزہ لیا ہے۔ اجلاس میں قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال، ہوم سکریٹری راجیو مہرشی، انٹیلی جنس بیورو کے ڈائریکٹر اور دیگر اعلی حکام بھی شریک تھے۔ دوسری جانب ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کے سابق وزیر اعلی عمر عبداللہ نےوزیراعظم نریندر مودی کا نام لئے بغیر کہا ہے کہ وادی کشمیر میں جاری ہلاکتوں کی فکر کئے بغیر پاکستان کے صوبے بلوچستان کے مسئلے کو حل کرنے کی باتیں کی جارہی ہیں۔عمر عبداللہ نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ کشمیر میں گذشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران چھے مظاہرین مارے گئے ہیں اور ہم جموں وکشمیر میں اتنا اچھا کام کررہے ہیں کہ بلوچستان کا مسئلہ حل کرنے نکلے ہیں۔قابل ذکر ہے کہ ہندوستان کے وزیراعظم نریندر مودی نے یوم آزادی کے موقع پر اپنے خطاب میں بلوچستان، پاکستان کے زیرانتظام کشمیر اور گلگت بلتستان کے لوگوں کا شکریہ ادا کیا۔