ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں کرفیوں، مظاہرے اور گرفتاریاں
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں حالات بدستور کشیدہ ہیں اور وادی کے مختلف علاقوں سے پرتشدد مظاہروں کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔
سری نگر سے ہمارے نمائندے کے مطابق کشمیر میں تینتالیسویں روز بھی کرفیو اور ہڑتال کے نتیجے میں معولات زندگی ٹھپ پڑے ہیں۔ وادی کے مختلف علاقوں میں اعلانیہ اور غیر اعلانیہ کرفیو کے باوجود مختلف علاقوں میں پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ ہفتے کے روز بھی جاری ہے جس کے دوران متعدد افراد زخمی ہوگئے۔مقامی حکومت نے علیحدگی پسند جماعتوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا سلسلہ تیز کردیا ہے۔مقامی حکومت کی خصوصی پولیس فورس کے اہلکاروں نے جنوبی قصبہ ترال میں جماعت اسلامی کے کشمیر کے سینیئررہنما عبدالقیوم کے گھر پر چھابہ مارا جس کے دوران وہ اوران کی بیوی شدید زخمی ہوگئے۔ پولیس اسی سالہ عبدالقیوم کے بڑے بیٹے کو گرفتار کرنا چاہتی تھی تاہم وہ گھر پر موجود نہیں تھا جس کے بعد پولیس نے عبدالقیوم کے چھوٹے بیٹے کو گرفتار کرلیا۔ مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ پولیس نے بیٹے کی گرفتاری کے خلاف مزاحمت کرنے پر عبدالقیوم اور ان کی بیوی پر پیلٹ گن کے فائر کھول دیئے جس سے دونوں شدید زخمی ہوگئے۔اسپتال کے ذرائع نے عبدالقیوم کی حالت تشویشناک بتائی ہے۔ دوسری جانب مقامی پولیس نے فوج کے ساتھ مل کر وادی میں کریک ڈاؤن کا سلسلہ تیزکردیا ہے اوراطلاعات ہیں کہ مختلف علاقوں سے کم سے کم سو افراد کو گرفتارکرلیا گیا ہے۔واضح رہے کہ گذشتہ ایک ماہ سے ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں ہڑتالوں اور مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس دوران ہندوستان کی سیکورٹی فورس اور کشمیری عوام کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں ستّرسے زائد کشمیری مارے گئے جبکہ سات ہزار دیگر زخمی ہوئے۔