کشمیر میں مظاہرے جاری، محبوبہ مفتی کی وزیراعظم سے ملاقات
ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں پچاسویں روز بھی سخت ترین کرفیو کے باوجود پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا جن کے دوران دسیوں افراد زخمی ہو گئے۔
سری نگر سے ہمارے نمائندے نے خبر دی ہے کہ وادی کے بیشتر علاقوں میں ہفتے کو پچاسویں روز بھی لوگوں نے پرتشدد مظاہرے کئے جن کے دوران دسیوں افراد زخمی ہوئے- دوسری جانب سیکورٹی فورس نے علیحدگی پسند تنطیموں کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف بھی کریک ڈاؤن شروع کر دیا جس کے دوران حریت کانفرنس کے ایک دھڑے کے رہنما میر واعظ عمرفاروق کو گرفتار کرکے انہیں نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا- پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ حریت کانفرنس کے ایک دوسرے دھڑے کے رہنما سید علی شاہ گیلانی کو بھی گرفتار کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے جبکہ جے کے ایل ایف کے سربراہ یاسین ملک کو پہلے ہی گرفتار کیا جا چکا ہے- دریں اثنا شمالی اور جنوبی کشمیر کے علاقوں میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے دوران زخمی ہونے والوں میں سے بعض کو سری نگر کے اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا- ادھر ریاست کی وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے سنیچر کو نئی دہلی میں وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی- محبوبہ مفتی نے نریندر مودی سے ایک گھنٹے تک ملاقات کرنے کے بعد نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مسئلہ کشمیر کا مکمل حل نکالنے کے لئے وزیراعظم سے درخواست کی ہے- محبوبہ مفتی نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کے پاس اس وقت دوتہائی اکثریت ہے اگر آج مسئلہ حل نہیں ہوا تو کبھی حل نہیں ہو گا- انہوں نے کہا کہ وزیراعظم بھی ہماری طرح کشمیر میں جاری خون خرابے سے پریشان ہیں- محبوبہ مفتی نے کہا کہ انہیں مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لئے ایسے لوگوں کا انتخاب کرنا چاہئے کہ جن پر کشمیری عوام بھروسہ کرتے ہوں- انہوں نے ہندوستان کے سبھی سیاسی دھڑوں اور اداروں سے کہا کہ وہ کشمیر میں خون خرابا بندا کرانے کے لئے ہماری مدد کریں- ریاستی وزیراعلی نے کشمیر کی علیحدگی پسند جماعتوں سے بھی کہا کہ وہ نوجوانوں کی جان بچانے کے لئے ہمارے ساتھ تعاون کریں- انہوں نے پاکستان پر کشمیر کے حالات کو خراب کرنے کا الزام لگایا اور کہا کہ پاکستان کشمیر میں امن نہیں چاہتا- یاد رہے کہ پاکستان اس قسم کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہتا ہے کہ وہ کشمیری عوام کی سیاسی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا-