کل جماعتی وفد کا دورہ سری نگر اور وادی میں پرتشدد مظاہرے
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں پرتشدد مظاہروں کے دوران مرکز سے کل جماعتی وفد وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کی قیادت میں سری نگر پہنچا ہے جبکہ وادی کے بیشتر علاقوں میں پرتشدد مظاہرے جاری ہیں۔
ہندوستان کے کل جماعتی وفد کے سری نگر پہنچنے کے موقع پر بھی وادی کے سبھی علاقوں میں شدید مظاہرے ہو رہے ہیں- علیحدگی پسند جماعتوں نے اتوار کو سری نگر ہوائی اڈے کی جانب جانے والی سڑک پر دھرنے کی کال دی تھی لیکن پولیس اور پیرا ملٹری فورس نے اس کال کو ناکام بنا دیا-
اس درمیان گذشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران ہونے والے مظاہروں میں اب تک ڈیڑھ سو سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں- اننت ناگ میں پولیس اور سیکورٹی فورس نے ایک جلسہ عام کو ناکام بنا دیا ہے- اننت ناگ میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں تیس افراد زخمی ہو گئے۔
دوسری جانب جنوبی کشمیر کے علاقے شوپیاں میں مظاہرین نے وہاں زیرتعمیر منی سیکریٹریٹ کو آگ لگا دی- شوپیاں میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپ میں ایک سو سے زائد افراد زخمی ہو گئے جن میں سے پانچ افراد کی حالت تشویشناک ہے- جنوبی اور شمالی کشمیر کے کئی علاقوں میں اتوار کو بھی سخت کرفیو نافذ رہا جبکہ وادی کے بیشتر علاقوں میں شدید ترین بندشیں جاری ہیں-
دریں اثنا مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کی قیادت میں اٹھائیس رکنی کل جماعتی وفد سری نگر میں صورتحال کا جائزہ لے رہا ہے- وفد کے پہنچتے ہی ریاستی وزیراعلی محبوبہ مفتی نے شیرکشمیر انٹریشنل کانفرنس سینٹر میں وفد سے ملاقات کی- ملاقات میں ریاست جموں کشمیر کے کئی دیگر وزرا موجود تھے-
جموں کشمیر کا نگریس کا ایک وفد بھی کل جماعتی وفد سے ملاقات کے لئے کانفرنس سینٹر پہنچا- نئی دہلی سے سری نگر پہنچنےوالے کل جماعتی وفد شامل میں کانگریس کے مرکزی رہنما غلام نبی آزاد نے جن کا تعلق جموں کشمیر سے ہے، کہا ہے کہ ہم امید کرتے ہیں کہ مسلئے کا حل نکل آئے گا- ان کا کہنا تھا کہ کل جماعتی وفد کے دورہ کشمیر سے خود کشمیر اور پورے ملک کا فائدہ ہو گا- کل جماعتی وفد میں شامل ایک مرکزی وزیررام ولاس پاسوان نے کہا ہے کہ آئین کے دائرے میں وفد سے جو بھی بات کرنا چاہے گا ہم اس سے بات کریں گے-
واضح رہے کہ کشمیر کی مختلف علیحدگی پسند تنظیموں کے رہنماؤں نے ہندوستانی آئین کے تحت مذاکرات کرنے سے پہلے ہی انکار کر دیا ہے- ریاستی وزیراعلی نے اگرچہ حریت کانفرنس اور کشمیر کے سبھی طبقوں سے کل جماعتی وفد سے مذاکرات کرنے کی اپیل کی ہے لیکن علیحدگی پسند جماعتوں اور دیگر یونینوں نے بھی مذکورہ وفد سے بات چیت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔