ہندوستان میں نوٹ بندی کے مسئلے پر دونوں ایوانوں کی کارروائی ٹھپ رہی
https://urdu.sahartv.ir/news/india-i259258-ہندوستان_میں_نوٹ_بندی_کے_مسئلے_پر_دونوں_ایوانوں_کی_کارروائی_ٹھپ_رہی
ہندوستانی پارلیمنٹ میں نوٹ بندی کے معاملے پر بحث کے دوران وزیراعظم نریندر مودی کے موجود رہنے کے مطالبے پر اپوزیشن آج بھی مصر رہی جس کی وجہ سے دونوں ایوانوں میں آج مسلسل پانچویں دن بھی کوئی کام کاج نہیں ہو سکا۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Nov ۲۳, ۲۰۱۶ ۱۴:۵۱ Asia/Tehran
  • ہندوستان میں نوٹ بندی کے مسئلے پر دونوں ایوانوں کی کارروائی ٹھپ رہی

ہندوستانی پارلیمنٹ میں نوٹ بندی کے معاملے پر بحث کے دوران وزیراعظم نریندر مودی کے موجود رہنے کے مطالبے پر اپوزیشن آج بھی مصر رہی جس کی وجہ سے دونوں ایوانوں میں آج مسلسل پانچویں دن بھی کوئی کام کاج نہیں ہو سکا۔

راجیہ سبھا اور لوک سبھا دونوں ہی ایوانوں میں اپوزیشن نے اپنے اپنے مطالبات کو لے کر صبح سے ہی ہنگامہ شروع کر دیا تھا۔ اپوزیشن نے لوک سبھا میں نوٹ بندی پر ضابطہ چھپن کے تحت تحریک التوا کے ذریعے بحث کرانے کا مطالبہ دوبارہ اٹھاتے ہوئے شور شرابہ کیا۔
ادھر مغربی بنگال کی وزیراعلی اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی نے نوٹ کی منسوخی کے خلاف جدوجہد کو ’آزادی کی دوسری لڑائی‘ قرار دیتے ہوئے آج مودی حکومت کو اس معاملے پر انتخابات کرانے کا چیلنج کیا۔ ممتا بنرجی نوٹ کی منسوخی کے خلاف پارلیمنٹ سے سڑک تک کی لڑائی کے تحت ترنمول کانگریس کی قیادت میں نئی دہلی کے جنتر منتر پر منعقدہ ایک دن کے دھرنے میں آنے والے لوگوں سے خطاب کر رہی تھیں۔ دھرنے میں ترنمول کانگریس کے ممبران پارلیمنٹ کے علاوہ جنتا دل یونائیٹڈ کے رہنما شرد یادو، اور کچھ دیگر رہنما بھی شامل ہوئے۔

دوسری جانب سپریم کورٹ نے نوٹ کی منسوخی معاملے میں ملک بھر کی مختلف عدالتوں میں چل رہے مقدمات پر روک لگانے سے آج انکار کر دیا اورکہا کہ جتنے مقدمات دائر کئے گئے ہیں، اس سے مسئلہ کی شدت کا پتہ چلتا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ مودی سرکار کی پالیسیوں کی وجہ سے ہندوستان میں وزیراعظم نریندر مودی کے پتلے جلائے جانے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ بھارتی ریاست یوپی کے شہر متھرا میں اپوزیشن جماعت کانگریس کے زیراہتمام مظاہرے میں نریندر مودی کا پتلا جلایا گیا۔ مظاہرے سے خطاب میں کانگریسی رہنماؤں نے کہا کہ مودی سرکار نے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، عوام کا پورا دن کرنسی نوٹوں کے لیے لائنوں میں کھڑے کھڑے ہی گزر جاتا ہے۔