نوٹ بندی معاملہ: ہندوستان کی پارلیمنٹ میں مسلسل ہنگامہ
https://urdu.sahartv.ir/news/india-i259399-نوٹ_بندی_معاملہ_ہندوستان_کی_پارلیمنٹ_میں_مسلسل_ہنگامہ
نوٹ بندی معاملے پر ہندوستان کے سابق وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے حکومت پر شدید تنقید کی ہے جبکہ پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں جمعرات کو بھی شدیدہنگامہ ہوا -
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Nov ۲۴, ۲۰۱۶ ۱۲:۰۴ Asia/Tehran
  • نوٹ بندی معاملہ:  ہندوستان کی پارلیمنٹ میں مسلسل ہنگامہ

نوٹ بندی معاملے پر ہندوستان کے سابق وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے حکومت پر شدید تنقید کی ہے جبکہ پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں جمعرات کو بھی شدیدہنگامہ ہوا -

ہندوستان کے سابق وزیراعظم منموہن سنگھ نےراجیہ سبھا میں نوٹ بین منصوبے پر حملہ  کرتے ہوئے کہا کہ اس پالیسی سے جی ڈی پی میں دو فیصد کمی واقع ہوگی -  انہوں نے وزیراعظم مودی پربراہ راست حملہ کرتے ہوئے کہا کہ نوٹ بندی معاملے میں کافی بدنظمی دیکھنے کو مل رہی ہے اور اس بدانتظامی کی وجہ سے لوگ بری طرح پریشان ہیں - منموہن سنگھ نے کہاکہ وزیراعظم کو چاہئے تھا کہ وہ اس منصوبے پر مناسب طریقے سے عمل کرتے -

منموہن سنگھ کی تقریر کے دوران وزیراعظم مودی بھی ایوان میں موجود تھے - منموہن سنگھ نے اس منصوبے پر اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم آفس اور آر بی آئی دونوں ہی ان منصوبے کو صحیح طریقے سے نافذ کرنے میں ناکام رہے ہیں انہوں نے سوال کیا کہ آپ نے کس ملک میں سنا ہے کہ لوگوں کو پیسہ جمع کرانے کے بعد نکالنے کی اجازت نہیں ہوتی - اس درمیان نوٹ بین معاملے پر جمعرات کو بھی ہندوستان کی پارلیمنٹ  کے دونوں ایوانوں میں زبردست ہنگامہ ہوا -

دوپہر کے کھانے کے بعد جب وزیراعظم نریندرمودی دوبارہ ایوان میں نہیں آئے تو اس پر حزب اختلاف کی جماعتوں نے شدید ہنگامہ کیا جس کے نتیجے میں کارروائی کو ملتوی کرنا پڑا - اپوزیشن کے ہنگامے پر وزیرخزانہ ارون جیٹلی نے کہا کہ حزب اختلاف کی جماعتیں بحث سے بھاگ رہی ہیں اور ان کے پاس کہنے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے - حزب اختلاف کا مطالبہ ہے کہ نوٹ بین معاملے پر وزیراعظم خود ایوان میں بیان دیں -

دوسری جانب مغربی بنگال کی وزیرعلی ممتابنرجی نے وزیراعظم مودی کو  آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سوئیس بینکوں سے بلیک منی تو واپس نہیں لاسکے لیکن خون پسینے کی کمائی رکھنے والوں کو پریشان کردیا ہے - ممتابنرجی نے نریندرمودی کا موازنہ ہٹلر سے بھی کردیا اور کہا کہ انہوں نے تو ہیٹلر سے بھی زیادہ تباہی مچادی ہے - یاد رہے کہ حزب اختلاف کی جماعتوں نے اٹھائیس نومبر کو ملک گیر ہڑتال اور یوم غضب منانے کا اعلان کیا ہے -