بین الاقوامی عدالت میں کلبھوشن جادھو کی سماعت
پاکستان میں جاسوسی کے الزام میں موت کی سزا پانے والے ہندوستان کی بحریہ کے ریٹائرڈ افسر کلبھوش جادھو کے معاملے پر بین الاقوامی عدالت میں سماعت جاری ہے-
پاکستان کی ایک فوجی عدالت نے کلبھوشن جادھو کو سزائے موت کا حکم سنایا تھا جس کے خلاف ہندوستان نے گزشتہ پیر کو ہیگ کی بین الاقوامی عدالت، آئی سی جے، میں اپیل کی تھی اور کہا تھا کہ موت کی سزا سفارتی تعلقات کے سلسلے میں ویانا معاہدے کی خلاف ورزی ہے-
ہندوستان کی اپیل کے دوسرے ہی دن بین الاقوامی عدالت نے جادھو کی سزا پر روک لگا دی تھی-
ہندوستان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کلبھوش جادھو کو ان کے حقوق سے محروم رکھا گیا اور سفارتی مدد لینے سے روکا گیا ہے-
ہندوستان کے وکیل نے یہ بھی کہا کہ پاکستان نے آرٹیکل چھتیس کی شقوں پر عمل نہیں کیا اور فوجی عدالت نے جادھو کے خلاف فرضی کاروائی چلائی-
ہندوستان نے عدالت سے یہ بھی کہا تھا کہ اگر فوری طور پر کارروائی کر کے پاکستانی حکومت کو سزائے پر عملدرآمد سے نہیں روکا گیا تو وہ جادھو کو پھانسی دے سکتا ہے جس کے بعد آئی سی جے، کے صدر نے پاکستان کے وزیر اعظم کو اس سلسلے میں فوری کارروائی کے لئے خط لکھا تھا-
ہندوستان کا کہنا ہے کہ جادھو کو ایران سے اغوا کیا گیا تھا جہاں وہ، بحریہ سے ریٹائر ہونے کے بعد اپنا کاروبار کر رہے تھے جبکہ پاکستان کا کہنا ہے کہ جادھو کو تین مارچ دو ہزار سولہ کو صوبے بلوچستان سے گرفتار کیا گیا-