ہندوستان میں بڑے جانوروں کے ذبیحہ پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے
https://urdu.sahartv.ir/news/india-i284734-ہندوستان_میں_بڑے_جانوروں_کے_ذبیحہ_پر_پابندی_کے_خلاف_احتجاجی_مظاہرے
ہندوستان میں گائے کی خرید و فروخت اور ذبیحہ پر پابندی کے خلاف ملک کے مختلف علاقوں میں مظاہرے کئے گئے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
May ۳۰, ۲۰۱۷ ۰۹:۳۹ Asia/Tehran
  • ہندوستان میں بڑے جانوروں کے ذبیحہ پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے

ہندوستان میں گائے کی خرید و فروخت اور ذبیحہ پر پابندی کے خلاف ملک کے مختلف علاقوں میں مظاہرے کئے گئے۔

نئی دہلی سے موصولہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گوشت کے تاجروں نے مرکزی حکومت کے حکم نامے پر سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

 حکومت ہندوستان کی جانب سے مویشیوں کی خرید و فروخت اور ذبیحے پر پابندی سے متعلق قانون کے خلاف اس ملک کی کئی ریاستوں میں شدید احتجاج کیا گیا ہے۔

بنگلور میں مسلمانوں اور دیگر کمیونیٹیز کی جانب سے حکومت کے اس فیصلے کے خلاف سخت مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ یہ پابندی مذہب کی وجہ سے نہیں لگائی گئی ہے بلکہ حکومت سارا بزنس نجی کمپنیوں کے ہاتھ میں دینا چاہتی ہے۔

گوشت کے تاجروں نے قریش ایکشن کمیٹی اور دیگر تاجروں اورمتعلقہ صنعتی ایسو سی ایشنوں کے ساتھ مل کر آئندہ چند روز میں سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ حکومتی آرڈینینس کو منسوخ کرایا جاسکے۔

ریاست کیرالہ کے وزیراعلیٰ نے مرکزی حکومت کے فیصلے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہم کیا کھائیں کیا نہیں، یہ دہلی یا ناگپور سے جاننے کی ضرورت نہیں۔ ریاستی حکومت اپنے عوام کو اُن کی پسند کا ہر کھانا اور سہولتیں فراہم کرے گی۔ انہوں نے وزیر اعظم کو خط لکھ کر مرکز کے فیصلے کی مخالفت کی تھی۔

ہندوستان کی ریاست مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بینر جی بھی مودی سرکار کے سامنے چٹان بن گئی ہیں اور انھوں نے گائے کی خرید و فروخت پر پابندی کے فیصلے کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جانوروں کی خرید و فروخت سے متعلق قانون سازی نئی دہلی کی نہیں بلکہ ریاستوں کی ذمہ داری ہے۔