ہندوستان میں تین طلاق کے خلاف بل لوک سبھا میں منظور
ہندوستان کی مرکزی حکومت کی طرف سے تین طلاق کے خلاف پیش کیاگیا متنازعہ بل پارلیمنٹ میں پاس ہوگيا ہے
ہندوستان کے مرکزی وزیرقانون روی شنکر پرساد نے تین طلاق کے خلاف متنازعہ بل کو پارلیمنٹ میں پیش کرتے ہوئے دعوی کیا کہ حکومت شریعت میں دخل نہیں دے رہی ہے بلکہ یہ بل مسلم خواتین کے وقار کے تحفظ کے لئے پیش کیا جارہا ہے - پارلیمنٹ میں مختلف جماعتوں کے ارکان نے اس بل کی مخالفت بھی کی - بل پیش ہونے کے فورا بعد آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسدالدین اویسی نے ایوان میں اس بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ تین طلاق کے خلاف یہ بل آئین کے تحت لوگوں کو ملے بنیادی حق کے خلاف ہے- انہوں نے کہا کہ اس بل سے مسلم خواتین کے حق میں ناانصافی ہوگی - اسد الدین اویسی نے کہا کہ حکومت اس بل کے ذریعے مسلم پرسنل لاء کو ختم کرنا چاہتی ہے- ان کا کہنا تھا کہ اسلام میں شادی ایک سول کانٹریکٹ ہے- لیکن اس کے لئے حکومت سزا متعین کررہی ہے - انہوں نے بی جے پی کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آپ مسلم خواتین کوبرابری کا حق دینے کا بات کرتے ہيں لیکن آپ کی جماعت میں ایک بھی مسلم خاتون نہيں ہے اور آپ کے پاس ایک بھی مسلمان رکن پارلیمنٹ تک نہیں ہے - بیجو جنتادل نے بھی ایوان میں اس بل کی مخالفت کی ہے - مجلس اتحاد المسلمین اور بیجوجنتادل کے ارکان نے بل کی مخالفت میں ایوان سے واک آؤٹ کیا نے کانگریس نے بل کی حمایت کی لیکن ساتھ ہی کہا کہ اس بل میں کچھ خامیاں ہیں انہيں دور کرنے کی ضرورت ہے - یاد رہے کہ مرکزی حکومت نے تین طلاق کے خلاف یہ بل ایک ایسے وقت پارلیمنٹ میں پیش کیا اور اس کو فوری طور پر منظوری بھی مل گئي جب ابھی حال ہی میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے اپنے ہنگامی اجلاس میں مذکورہ حکومتی بل کی مخالفت کرتے ہوئے اس کو خارج کردیا تھا - مسلم پرسنل لاء بورڈ نے کہا تھا کہ وہ وزیراعظم سے کہےگا کہ وہ بل پارلیمنٹ میں پیش نہ ہونے دیں - اس بل کی منظوری سے طلاق ثلاثہ تعزیری جرم بن جائےگا --