علیگڑھ مسلم یونیورسٹی میں بانی پاکستان کی تصویر پر انتہا پسندوں کا ہنگامہ
ہندوستان کی معروف علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں بانی پاکستان کی تصویر لگنے کے معاملے پر سخت گیر ہندو تنظیم ہندو یوا واہنی کے اشتعال انگیز اور پرتشدد مظاہرے کے بعد صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔
علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹ یونین ہال میں بانی پاکستان کی لگی تصویر کے معاملے پر احتجاج کرتے ہوئے علیگڑھ میں ہندو یوا واہنی کے لوگوں نے مبینہ طور پر بندوق پستول ڈنڈے اور سریا لے کر یونیورسٹی کے کیمپس میں داخل ہونے کی کوشش کی جس پر یونیورسٹی کے گارڈ اور دیگر افراد نے انہیں روکنے کی کوشش کی۔
ہندو یوا واہنی کے افراد یونیورسٹی اور یونیورسٹی کے انتظامیہ کے خلاف اشتعال انگیز نعرے لگارہے تھے۔دیکھتے دیکھتے یونیورسٹی کے طلبا بھی باب سید پر پہنچ گئے اور انہوں نے بھی باہر سے یونیورسٹی میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے مظاہرین کو روکنے کی کوشش کی بعد ازاں طلبانے ایف آئی آر درج کرانے کے لئے شہر کے تھانے کا رخ کیا ہی تھا کہ راستے میں پولیس نے انہیں بری طرح زد و کوب جس کے نتیجے میں متعدد طلبا زخمی ہوگئے۔
ہندوستانی میڈیا کے مطابق اس واقعے کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی ہے طلبا نے یونیورسٹی کے باب سید پر دھرنا دے دیا ہے اور ان کا مطالبہ ہے کہ جب تک اشتعال انگیزی کرنے والے افراد کو گرفتار نہیں کیا جاتا اور بے قصور طلبا پر لاٹھی برسانے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی نہیں کی جاتی اس وقت تک ان کا دھرنا جاری ہے۔
دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ طلبا کی جانب سے ان پر پتھراؤ کیا گیا تھا جس کے جواب میں اس نے لاٹھی چارج کیا۔ اس درمیان قومی اقلیتی کمیشن نے اے ایم یو اور ضلع انتظامیہ سے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی ہے۔ اے ایم یو کے سابق طلبا یونین کی شکایت پر قومی اقلیتی کمیشن نے وائس چانسلر اور ضلعی انتظامیہ کو نوٹس جاری کردیاہے دوسری جانب عام آدمی پارٹی کے اے ایم یو واقعے کا ذمہ دار حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو قراردیا ہے۔
یونیورسٹی کے طلبا یونین کا کہنا ہےکہ اسٹوڈنٹ یونین ہال میں بانی پاکستان کی تصویر ان سبھی شخصیات کے ساتھ لگی ہے جن کا کسی نہ کسی طرح اس یونیورسٹی سے تعلق رہا ہے اور یہ تصویر انیس سو اڑتیس سے لگی ہے - طلبا یونین کا کہنا ہے کہ تصویرلگنے کی نوعیت محض تاریخی ہے اس کو سیاست سے نہ جوڑا جائے۔