علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبا کا احتجاجی دھرنا جاری
ہندوستان کی معروف علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبا کا احتجاجی دھرنا جمعے کو بھی جاری رہا ہے جبکہ ضلعی انتظامیہ نے انٹرنیٹ سروس بند کردی ہے۔
علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹ یونین ہال میں متعدد شخصیات کے ساتھ ساتھ بانی پاکستان محمد علی جناح کی تصویر لگی ہونے کے معاملے پر سخت گیر ہندو تنظیم ہندو یوا واہنی نے بدھ کے روز اشتعال انگیز نعرے اور یونیورسٹی میں داخل ہو کر ماحول کو خراب کی کوشش کی۔
اس واقعے کے خلاف احتجاج کرنے والے اے ایم یو کے طلبا نے مسلسل دوسرے روز بھی یونیورسٹی کے باب سید پر احتجاجی دھرنا جاری رکھا۔ طلبا کا مطالبہ ہے کہ جب تک اے ایم یو کے خلاف اشتعال انگیزی اور فساد برپا کرنے والے سخت گیر تنظیم ہندو یوا واہنی کے کارکنوں اور طلبا پر لاٹھی چارج کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی نہیں کی جاتی اس وقت تک اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔
اس درمیان علیگڑھ کے ڈی ایم نے دفعہ ایک سوچوالیس کے تحت پورے ضلع میں انٹرنیٹ سروس بند کردینے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر فرقہ وارانہ ماحول کو بگاڑنے والے کسی بھی مسیج کو پوسٹ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور ایسا کرنے والے کے خلاف سخت قانونی کارروائی ہوگی۔
یونیورسٹی میں کلاسوں کی چھٹی کردی گئی ہے۔ اس درمیان اے ایم یو ٹیچر ایسو سی ایشن نے ہندوستان کے صدر رام ناتھ کوند کو خط لکھ کر گذشتہ بدھ کو ہندو یوا واہنی کے کارکنوں کے ذریعے یونیورسٹی کیمپس میں فساد برپا کرنے کے واقعے کی فوری طور پر اعلی سطحی جانچ کا حکم دینے کی درخواست کی ہے۔
اے ایم یو ٹیچر ایسو سی ایشن نے اپنے خط میں صدر سے کہا ہے کہ وہ اس معاملے کا سنجیدگی کے ساتھ نوٹس لیں کیونکہ یہ سابق نائب صدر حامد انصاری کی سلامتی سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ پولیس بدامنی پھیلانے والے عناصر کو روکنے کے بجائے خاموش تماشائی بنی رہی۔ دوسری جانب گورکھپور سے ممبرپارلیمنٹ پروین کمار نشاد نے کہا ہے کہ اس پورے واقعے کی ذمہ دار مرکزی اور ریاستی حکومتیں ہیں اور وہ اپنے ووٹ بینک کے لئے اس قسم کے واقعات کی حمایت کررہی ہیں۔