کشمیر کی مشترکہ مزاحمتی قیادت کا بیان
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں مشترکہ مزاحمتی قیادت نے حکومت ہندوستان کے ساتھ مذاکرات کے لئے مشروط طور پر اپنی آمادگی ظاہر کی ہے
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں مشترکہ مزاحمتی قیادت نے حکومت ہندوستان سے کہا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئےغیر واضح اور مبہم بات کرنے کے بجائے سہ فریقی مذاکرات کے لئے ماحول سازگار بنائے- مشترکہ مزاحمتی قیادت نے واضح طور پر کہا ہے کہ حکومت ہندوستان اگر ایسا کرتی ہے تو مزاحمتی قیادت اس طرح کے سنجیدہ مذاکراتی عمل میں شامل ہونے میں دیر نہیں کرے گیسری نگر سے ہمارے سے نمائندے نے خبردی ہے کہ مشترکہ مزاحمتی قیادت کے رہنماؤں سید علی شاہ گیلانی ، میرواعظ عمرفاروق اور محمد یسین ملک نے حیدر پورہ میں ایک غیر معمولی اجلاس میں ریاست جموں کشمیر کی تازہ ترین سیاسی صورتحال کاتجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے کئی روز سے ہندوستان کے مختلف ارباب اقتدار کی طرف سے مذاکرات کے تعلق سے مبہم اور غیر واضح بیانات دینے میں سبقت لینے کی کوشش کی گئی ہے - ان رہنماؤں نے حکومت ہندوستان سے سوال کیا ہے کہ ان کھلے تضادات کے ماحول میں وہ کون سی صورتحال بنتی ہے جس میں مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے مذاکرات کئے جاسکتےہیں؟ کشمیرکی مزاحمتی قیادت نے کہا ہے کہ وہ مذاکرات برائے مذاکرات کی قائل نہیں ہے بلکہ وہ چاہتی ہے کہ پاکستان ہندوستان اور کشمیری عوام کے حقیقی نمائندوں پر مشتمل بامقصد اور سنجیدہ مذاکرات کئےجائیں - حریت رہنماؤں نے کہا کہ ہندوستان کی موجودہ حکومت کی جانب سے بار بار مذاکرات کی مبہم باتیں کرنا مقصد آئندہ سال ہونے والے الیکشن کے لئے ووٹ بینک کو مضبوط بنانا ہے - واضح رہے کہ پچھلے دنوں ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے دورہ سری نگر میں ایک بار پھر مسئلہ کشمیرکو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی بات کی ہے جبکہ حکومت نے اس سلسلے میں دنیشورشرما کو اپنا نمائندہ بھی مقرر کردیا ہے