ہندوستان میں سی اے اے کے خلاف ممبئی سے دہلی تک ریلی
شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف پورے ہندوستان میں احتجاجی مظاہرے مزید شدت ختیار کرتے جارہے ہیں۔ جہاں ممبئی سے دہلی تک تین ہزار کلومیٹر تک گاندھی تاترا کے نام سے سیینئر سیاستدانوں نے سی اے اے اور این آر سی کے خلاف لانگ مارچ نکالا ہے وہیں سپریم کورٹ آف انڈیا نے ملک کی صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوستان سخت حالات سے گذر رہا ہے
شہریت ترمیمی ایکٹ اور این آرسی کے خلاف ہندوستان کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں اور ان میں شدت آتی جارہی ہے - جمعرات کو ممبئی کے گیٹ وے آف انڈیا سے کانگریس اور این سی پی سمیت مختلف جماعتوں نے رہنماؤں اور سینیئر سیاستدانوں نے ممبئی سے دہلی تک گاندھی یاترا نامی لانگ مارچ اور ریلی کا آغاز کیا ہے جن میں ملک کے سینیئر سیاستداں اور مختلف طبقوں کے افراد اور تنظیموں کے کارکن شامل ہیں - سی اے اے اور این آر سی کے خلاف ریلی میں نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے سربراہ شرد پوار ، بی جے پی کی سابقہ حکومت کے وزیرخزانہ اور خارجہ یشونت سنہا ، بی جےپی سے سابق رکن پارلیمنٹ اور فلم اسٹار شترودھن سنہا اور ونچیت بہوجن اگھاڑی کے رہنما پرکاش امبیڈکر جیسے سینیئر اور اہم لیڈران شامل ہیں - گاندھی یاترا شروع ہونے سےپہلے بی جے پی کے سابق رہنما یشونت سنہا نے مرکز میں برسراقتدار مودی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں اب دوبارہ گاندھی کا قتل نہیں ہونے دیں گے اور نہ ہی ملک کو تقسیم ہونے دیں گے - انہوں نے سپریم کورٹ سے سی اے اے کو غیرقانونی قراردینے کی مانگ کرتے ہوئے کہا کہ جے این یو معاملے کی عدالتی جانچ کرائی جائے ۔ واضح رہے کہ پانچ جنوری کو کچھ نقاب پوش افراد نے دہلی کی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں گھس کے طلبا اور ٹیچروں کو بری طرح پیٹا تھا جس کے دوران جے این یو طلبا یونین کی صدر کے سرمیں بھی کافی چوٹ آئی تھی - سی اے اے اور این آرسی کے خلاف شروع ہوئی گاندھی ریلی کوممبئی میں این سی پی کے سربراہ شردپوار نے ہری جھنڈی دکھائی - یہ ریلی یا مارچ اکیس دن کے سفر میں تین ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے گجرات ہوتے ہوئے دہلی میں مہاتما گاندھی کی سمادھی راج گھاٹ پر اختتام پذیر ہوگا - قبل ازیں بدھ کو سی اے اے اور حکومت کی بعض پالیسیوں کے خلاف پورے ملک میں ٹریڈ اور لیبر یونینوں نے ہڑتال کی تھی اور ہندوستان بند کی کال دی تھی جس سے ملک کے بیشتر حصوں میں معمولات زندگی بری طرح مفلوج رہے - اس درمیان چیف جسٹس آف انڈیا نے پورے میں سی اے اےاوراین آرسی کے خلاف جاری مظاہروں پرتشویش ظاہر کی ہے - چیف جسٹس آف انڈیا ایس اے بو بڑے نے کہا ہے کہ ملک سخت حالات سے گزر رہا ہے اور ملک میں امن قائم کرنے کے لئے کوشش کی جانی چاہئے - سی اے اے کے خلاف مظاہرے کرنے والے طلبا ، کارکنوں اور میڈیاہاؤس پر کارروائی کرنے کی درخواست دینے والے پونیت کور ڈھانڈا کی عرضی پر سماعت کے دوران چیف جسٹس آف انڈیا نے کہا کہ اس طرح کی درخواستیں مدد نہیں کرسکتیں ۔ درخواست میں کہا گیا تھا کہ سی اے اے کو قانونی اعلان کیا جائے اور مظاہرے کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اس طرح سے ہم سی اے اے کو قانونی اعلان نہیں کرسکتے اور ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ پارلیمنٹ میں پاس کیاگیا ایک قانون ہر حال میں قانونی ہے - دوسری جانب شمال مشرقی ریاستوں میں بھی سی اے اے کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں - ریاست آسام میں طلبا یونینوں اور مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے مسلسل مظاہروں کے دوران وزیراعظم نریندر مودی نے ایک مہینے میں دوسری بار ریاست آسام کا دورہ منسوخ کیا ہے - نریندر مودی کو دس جنوری کو تیسرے کھیلو انڈیا یوتھ گیمس کا افتتاح کرنا تھا لیکن آخری وقت میں انہوں نے اپنا یہ دورہ منسوخ کردیا ہے اس سے پہلے وزیرداخلہ امت شاہ کو بھی اپنا دورہ آسام منسوخ کرنا پڑا تھا - آسام کی طلبا یونینوں نےدھمکی دی تھی کہ اگر وزیراعظم مودی آسام آئے تو انہیں لوگوں کے شدید غیظ و غضب کا سامنا کرنا پڑے گا -