یورپی پارلیمنٹ کے اراکین حقیقت پسندی سے کام لیں: ترجمان دفتر خارجہ
اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے ایٹمی معاہدے کے بعد ایران کے ساتھ تعلقات سے متعلق یورپی یونین کی خارجہ تعلقات کمیٹی کی منظور کی جانے والی دستاویز کے بعض حصوں کو ایران مخالف حلقوں کے پروپیگنڈے کا نتیجہ اور غیر حقیقی قرار دیا ہے۔
ارنا کی رپورٹ کے مطابق بہرام قاسمی نے یورپی پارلیمنٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی میں " ایٹمی معاہدے کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران کے سلسلے میں یورپی یونین کی اسٹریٹیجی " کے نام سے منظور کی جانے والی اسٹریٹیجک دستاویز کی منظوری پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اس دستاویز میں بیان کئے جانے والے بعض نکات کو مثبت اور اس دستاویز کے بعض حصوں کو ایران مخالف پروپیگنڈے کا نتیجہ اور غیر حقیقی قرار دیا ۔
بہرام قاسمی نے کہا کہ اگرچہ اس قرارداد میں مثبت اور امید پیدا کرنے والے نکات موجود ہیں جن سے ایران اور یورپی یونین کے تعلقات میں توسیع کےسلسلے میں مدد حاصل کی جاسکتی ہے اور باہمی تعلقات کا نیا دروازہ کھولا جاسکتا ہے لیکن اس میں بعض نکات خصوصا ایران میں انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے میں ایسے نکات بھی موجود ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے جبکہ اس میں درج بعض نکات اسلامی جمہوریہ ایران کے دشمنوں کے بے بنیاد پروپیگنڈے کا نتیجہ ہیں۔
بہرام قاسمی نے مزید کہا کہ مستقبل قریب میں ایران اور یورپی یونین کے درمیان انسانی حقوق کے بارے میں مذاکرات ہونے والے ہیں۔ان حالات میں اس طرح کا موقف اختیار کرنا غیر تعمیری ہے اور اس سے انسانی حقوق سےمتعلق مذاکرات کی سطح بلند ہونے میں کوئی مدد نہیں ملے گی بلکہ اس سے ہمارے ملک کے داخلی امور میں مداخلت کے شکوک و شبہات جنم لیں گے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے مزید کہاکہ اگرچہ یورپی پارلیمنٹ کی منظور کردہ دستاویز میں بیان شدہ نکات سفارشات کی حیثیت رکھتے ہیں لیکن پھر بھی بہتر یہ ہےکہ یورپی پارلیمنٹ کے اراکین زیادہ سے زیادہ حقیقت پسندی اور دور اندیشی سے کام لیں اور ایران مخالف حلقوں کی جانب سے بیان کئے جانے والے غیر حقیقی اور غلط موضوعات کو زیر بحث لانے سے اجتناب کریں۔