ہیومین رائٹس واچ کی سعودی عرب پر تنقید
Sep ۰۴, ۲۰۱۵ ۱۵:۱۸ Asia/Tehran
ہیومین رائٹس واچ نے سعودی عرب میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر تنقید کی ہے۔
پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ہیومین رائٹس واچ کے شعبہ مشرق وسطی کے امور کی ڈائریکٹر سارا لی وسٹن نے سعودی عرب میں انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے میں ایک رپورٹ جاری کی ہے۔ جس میں تاکید کی گئی ہے کہ سعودی عرب کے نئے بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز کے دور حکومت میں اس ملک میں انسانی حقوق کی صورتحال بہتر نہیں ہوئی ہے۔ اس رپورٹ میں امریکہ کی حمایت کے ساتھ یمن کے عام شہریوں پر سعودی عرب کے حملوں اور ان حملوں میں کلسٹر بموں کے استعمال کو جنگی جرائم سے تعبیر کیا گیا ہے۔ سارا لی وسٹن کی رپورٹ میں آیا ہے کہ سعودی عرب کی حکومت اپنے حقوق کے حصول اور سیاسی و سماجی اصلاحات کا مطالبہ اور پر امن احتجاج کرنے والے شہریوں پر تشدد کرتی اور ان کو طویل مدت تک قید کی سزا دیتی ہے۔ رپورٹ میں مزید آیا ہے کہ سعودی عرب میں خواتین پر بہت زیادہ پابندیاں عائد ہیں اور حال ہی میں دو خواتین کو ڈرائیونگ کی بنا پر تیئیس دن قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ سعودی عرب کی حکومت نے اس ملک میں کام کرنے والے ان لاکھوں مزدوروں کی حالت سدھارنے کی جانب کوئی توجہ نہیں دی ہے جن کے حقوق ہر روز پامال ہوتے ہیں۔ ہیومین رائٹس واچ کے شعبہ مشرق وسطی کے امور کی ڈائریکٹر سارا لی وسٹن نے اپنی رپورٹ میں اس بات پر تاکید کی ہےکہ آل سعود کی حکومت نے تعلیم، انصاف اور روزگار کے شعبوں میں شیعہ مسلمانوں کے ساتھ اپنے دیرینہ امتیازی سلوک کا سلسلہ ابھی تک ختم نہیں کیا ہے اور اس ملک کی سیکورٹی فورسز کے اہلکار داعش جیسے دہشت گرد گروہوں کے حملوں سے ان کو تحفظ فراہم نہیں کرتے ہیں۔