ماسکو اجلاس پر افغان پارلیمنٹ کی کڑی نکتہ چینی
افغان پارلیمنٹ نے ماسکو میں ہونے والے روس، چین اور پاکستان پر مشتمل سہ فریقی اجلاس پر کڑی نکتہ چینی کی ہے جس میں افغانستان کو شرکت کی دعوت نہیں دی گئی تھی۔
کابل سے موصولہ خبروں کے مطابق افغان پارلیمنٹ میں ہفتے کے روز سہ فریقی اجلاس کے بارے میں گرما گرم بحث ہوئی اور اسپیکر نے حکومت سے فعال سفارت کاری سے کام لینے کا مطالبہ کیا- افغان اسپیکر عبدالروف ابراہیمی کا کہنا تھا کہ حکومت فعال سفارت کاری کے ذریعے روس کے ساتھ بات چیت کرے اور افغانستان کو شام کی طرح عالمی محاذ آرائی کا میدان بننے نہ دے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت سفارت کاری کے ذریعے روس کو طالبان کی حمایت سے روکے اور مشکلات کو صحیح طریقے سے حل کرنے کی کوشش کرے۔
افغان رکن پارلیمنٹ عبیداللہ بارکزئی نے ماسکو میں ہونے والے سہ فریقی اجلاس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملہ پر توجہ نہ دی گئی تو بہت جلد افغانستان کی خانہ جنگی علاقائی اور عالمی جنگ میں تبدیل ہوجائے گی۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر حکومت افغانستان نے اس معاملے میں مزید تاخیر کی تو افغانستان کی جنگ بھی شام کی طرح بے قابو ہوجائے گی اور ملک عالمی طاقتوں کی رسہ کشی کا میدان بن جائے گا۔
قابل ذکر ہے کہ ماسکو میں ہونے والے سہ فریقی اجلاس کے شرکا نے، اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ طالبان رہنماؤں کے نام بلیک لسٹ سے نکلوانےکے لیے اقوام متحدہ سے درخواست کی جانی چاہیے۔ طالبان نے ماسکو اجلاس کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ افغان پارلیمنٹ کے اسپیکر نے گزشتہ ہفتے بھی اپنے ایک بیان میں روس کے اس اقدام کو افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیتے ہوئے خبر دار کیا تھا کہ اگر یہ صورتحال اسی طرح جاری رہی تو آئندہ برس کے دوران افغانستان کی سیکورٹی کی صورتحال مزید ابتر ہوجائے گی۔