افغانستان میں تین روز کے عام سوگ کا اعلان
https://urdu.sahartv.ir/news/islamic_world-i280226-افغانستان_میں_تین_روز_کے_عام_سوگ_کا_اعلان
حکومت افغانستان نے طالبان کے حملے میں ڈیڑھ سو فوجیوں کے مارے جانے کی مذمت کرتے ہوئے ملک میں تین روز کے عام سوگ کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب پاکستان نے افغان فوجی چھاونی پر طالبان کے حملے کی مذمت کی ہے۔
(last modified 2025-07-01T12:42:33+00:00 )
Apr ۲۲, ۲۰۱۷ ۱۶:۳۲ Asia/Tehran
  • افغانستان میں تین روز کے عام سوگ کا اعلان

حکومت افغانستان نے طالبان کے حملے میں ڈیڑھ سو فوجیوں کے مارے جانے کی مذمت کرتے ہوئے ملک میں تین روز کے عام سوگ کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب پاکستان نے افغان فوجی چھاونی پر طالبان کے حملے کی مذمت کی ہے۔

حکومت افغانستان نے اعلان کیا ہے کہ طالبان کے حملے میں مرنے والے فوجیوں کی یاد میں اتوار سے قومی پرچم سرنگوں رہے گا اور عام سوگ  منایا جائے گا۔
افغانستان کے صدر اشرف غنی نے مزار شریف کے قریب واقع فوجی چھاونی پر طالبان کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے مرنے والوں کے لواحقین سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔
صدر اشرف غنی نے سیکورٹی اداروں کو حکم دیا ہے کہ وہ اس سانحے میں ملوث عناصر کا پتہ لگا کر انہیں جلد از جلد قانون کے حوالے کریں۔
افغانستان کے صدر جو سیکورٹی کی صورتحال کا جائزہ لینے اور زخمیوں کی عیادت کے لیے مزار شریف کے دورے پر ہیں، طالبان کے حملے میں مرنے والوں کی تدفین میں شریک ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گرد افغانستان کے کسی بھی علاقے میں چین سے نہیں رہ سکتے افغان سیکورٹی اداروں نے ہر علاقے میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی ہے اور شاہین فوجی چھاونی پر حملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ تکفیری گروہ بری طرح ناکام ہوگئے ہیں۔
افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے افغان فوج کی چھاونی پر طالبان کے حملے کو بزدلانہ کاروائی قرار دیتے ہوئے اس کی سختی کے ساتھ مذمت کی ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران، ، ہندوستان اور پاکستان نے بھی مزار شریف میں افغان فوج کی چھاونی پر طالبان کے حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نفیس زکریا نے طالبان کے حملے میں مرنے والے افغان فوجیوں کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھنے پر زور دیا ہے۔
پاکستان کی وزارت خارجہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حکومت افغانستان اور عالمی برادری کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کا عزم بھی ظاہر کیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ مسلح طالبان کے ایک گروپ نے جمعے کے روز افغانستان کے صوبے بلخ کے مرکزی شہر مزار شریف کے قریب واقع افغان فوج کی شاہین نامی چھاؤنی پر اس وقت حملہ کردیا تھا جب ، فوجی اہلکار نماز جمعہ کی ادائیگی میں مصروف تھے۔
حکام کا کہنا ہے کہ فوجی وردی میں ملبوس طالبان عناصر بموں کے دھماکے کرتے ہوئے فوجی چھاؤنی میں داخل ہوئے جس کے بعد افغان سیکورٹی فورس کے ساتھ ان کی جھڑپیں بھی ہوئیں۔
افغان حکام نے طالبان کے حملے میں ڈیڑھ سو فوجی اہلکاروں کے مارے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ افغان فوج کی جوابی کاروائی میں پانچ حملہ آور بھی مارے گئے ہیں۔
ساٹھ سے زائد افغان فوجی اس حملے میں زخمی بھی ہوئے جنہیں اسپتال میں داخل کرادیا گیا ہے۔
پچھلے پندرہ سال کے دوران افغان فوج کے خلاف یہ طالبان کا اب تک سب سے بڑا خونی حملہ ہے۔