افغانستان میں دو سیاسی دھڑوں میں خوں ریز جھڑپیں
افغانستان کے صوبہ تخار میں گلبدین حکمت یار کی جماعت حزب اسلامی اور مخالف جماعت جمیعت اسلامی کے درمیان خوں ریز تصادم کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔
افغان خبر رساں ایجنسی آوا پریس کے مطابق مقامی عہدیداروں نے بتایا ہے کہ حکمت یار کی جماعت کے ایک کمانڈر نے جمیعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے بائیس افراد کو نماز کی ادائیگی کے دوران گولیوں سے بھون دیا ہے۔
سینیٹ کے رکن افضل شامل نے بھی تصادم کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ تصادم اس وقت شروع ہوا جب جمیعت اسلامی کے کارکنوں نے گلبدین حکمت یار کی حزب اسلامی کے کارکنوں کو منشیات کی اسمگلنگ سے روکنے کی کوشش کی۔
تخار پولیس کے ترجمان فقیر محمد جوزجانی نے کہا ہے کہ صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ایک وفد علاقے میں بھیج دیا گیا ہے۔
صوبہ تخار کے گورنر ہاوس کے ترجمان سنت اللہ تیمور نے بھی کہا ہے کہ علاقے میں یہ جھڑپیں حزب اسلامی اور جمیعت اسلامی کے درمیان پائی جانے والی سیاسی رنجشوں کے باعث ہو رہی ہیں۔