فلسطین کے مختلف علاقوں میں صیہونی فوجیوں کی جارحیت
فلسطین کے مختلف علاقوں میں غاصب صیہونی حکومت کے فوجیوں کی وحشیانہ جارحیت مسلسل جاری ہے۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ صیہونی فوجیوں کے جارحانہ اقدامات کی عالمی سطح پر مذمت کی جا رہی ہے۔
حالیہ چند ہفتوں سے فلسطین کے مختلف علاقوں میں فلسطینیوں کے خلاف صیہونی فوجیوں کے جارحانہ اقدامات کا سلسلہ جاری ہے اور کوئی دن ایسا نہیں گذرتا کہ جس دن صیہونی فوجیوں کے ہاتھوں فلسطینیوں کا خون نہ بہتا ہو۔صیہونی فوجیوں نے پیر کے روز بھی مسجدالاقصی کے اطراف میں دھرنا دینے والے فلسطینیوں پر حملہ اور انھیں شدید زد و کوب کیا۔فلسطینی ذرائع کے مطابق صیہونی فوجیوں نے غرب اردن کے مختلف علاقوں کو جارحیت کا نشانہ بناتے ہوئے دسیوں فلسطینیوں کو گرفتار کر لیا۔ صیہونی فوجیوں نے اسی طرح صیہونی حکومت کی جارحانہ کارروائی میں شہید ہونے والے ایک فلسطینی کے والد کو بھی گرفتار کر لیا۔اتوار کے روز بھی باب الاسباط میں فلسطینی نمازیوں پر صیہونی فوجیوں کے حملے میں اکّیس فلسطینی زخمی ہو گئے تھے۔ فلسطینیوں پر صیہونی فوجیوں کی جارحیت کا یہ سلسلہ ایسی حالت میں جاری ہے کہ مغربی ملکوں خاص طور سے امریکہ کی خاموشی کی بنا پر صیہونی حکومت، جارحانہ کارروائیوں میں اور زیادہ گستاخ ہوتی جا رہی ہے۔اس میں دو رائے نہیں کہ امریکی حمایت اور عرب و اسلامی ملکوں میں اختلافات پیدا کرنے کے لئے بعض حکمرانوں کی پالیسیوں کے نتیجے میں صیہونی حکومت نے بحران فلسطین کو اپنے حق میں حل کرنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ ایسی صورت حال میں صیہونی حکام رعب و وحشت کا ماحول پیدا کر کے انفتاضہ قدس کو کچلنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ علاقے میں تحریک مزاحمت کے خلاف امریکہ اور بعض عرب حکام کی الزام تراشیوں کا سلسلہ بھی تیز ہو گیا ہے جس سے انتفاضہ کو دبانے اور ختم کرنے کے لئے امریکہ، اسرائیل اور بعض سازش پسند عرب حکومتوں کے درمیان ہم آہنگی پائی جانے کا پتہ چلتا ہے تاہم فلسطینیوں کے جاری ردعمل سے فلسطینیوں کی استقامت کا عمل تیز ہونے کی بھی نشاندہی ہوتی ہے۔دریں اثنا تحریک فتح کی مرکزی کمیٹی کے رکن عزام الاحمد نے الحدث ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے فلسطین کی صورت حال کے بارے میں کہا ہے کہ فلسطین کے مختلف علاقوں خاص طور سے بیت المقدس کے حالات سخت بحرانی ہو گئے ہیں اور فلسطینیوں اور صیہونی فوجیوں کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔انھوں نے مسجدالاقصی کے گیٹ پر سیکورٹی کیمرے نصب کئے جانے کے بارے میں صیہونی حکومت کے فیصلے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ الیکٹرانیک گیٹ کے فیصلے سے کیمرے کی تنصیب کا فیصلہ اگرچہ صیہونی حکام کی پسپائی کا مظہر ہے تاہم فلسطینیوں کی نظر میں سیکورٹی کیمرے کی تنصیب کا اقدام بھی ناقابل قبول ہے۔عزام خالد نے کہا کہ بیت المقدس کے سلسلے میں تمام فلسطینی گروہ مکمل متحد ہیں اس لئے کہ مسجد الاقصی نہ صرف فلسطینیوں بلکہ تمام مسلمانوں سے متعلق ہے اور سب کو چاہئے کہ اس مسجد کی حمایت کریں۔حقیقت امر یہ ہے کہ مغربی ملکوں خاص طور سے امریکہ کی حمایت سے غاصب صیہونی حکومت کے جارحانہ اقدامات، فلسطینی عوام کی استقامت کا عمل تیز ہونے اور غاصب صیہونی حکومت سے عالمی سطح پر نفرت بڑھنے کا باعث بنے ہیں اور صیہونی حکومت کے خلاف احتجاج کا دائرہ اب مغربی ملکوں منجملہ امریکہ اور برطانیہ کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔