پاکستان کی پیشکش پر افغانستان کا ردعمل
اسلام آباد میں افغانستان کے سفیر نے دہشتگردی کے مقابلے کے لئے سرحدوں پر مشترکہ گشت اور باڑ نصب کرنے کی پاکستان کی تجویز کو مسترد کر دیا۔
تسنیم نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں افغانستان کے سفیر عمر زاخیلوال نے پاکستان کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی جانب سے سرحدوں پر مشترکہ گشت شروع کئے جانے کی تجویز پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشترکہ گشت اور ڈیورنڈلائن پر حصار کھینچنے کی تجویز سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان دہشتگردوں کے محفوظ ٹھکانوں کو ختم کرنے سے چشم پوشی کر رہا ہے۔
عمر زاخیلوال نے مزید کہا کہ حکومت کابل نے پاکستان سے با رہا کہا ہے کہ پاکستان جہاں حصار کھینچنا چاہتا ہے وہاں کوئی مسئلہ نہیں ہے بلکہ مسئلہ کوئٹہ، پشاور اور اس ملک کے دینی مدارس میں ہے یعنی جہاں حکومت کابل کے مسلح مخالفین ٹریننگ لیتے ہیں اور ان کے سرغنے موجود ہیں۔
پاکستان کے وزیراعظم نے بدھ کو اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اپنی سچائی ثابت کرنے کے لئے افغانستان کے ساتھ مشترکہ سرحدی گشت شروع کرنے اور مشترکہ چیک پوسٹیں قائم کرنے کے لئے تیار ہے۔
افغانستان اور پاکستان کے درمیان ڈیورنڈ لائن کے سلسلے میں اختلافات دونوں ملکوں کے درمیان سنگین مسائل پیدا ہونے کا باعث ہیں۔