امریکہ افغانستان مین جنگ میں شدت کا موجب
افغانستان کے سابق صدر نے اس ملک میں امریکی زیر کمان فوجیوں کی موجودگی کو افغانستان میں جنگ میں شدت، بدامنی اور عدم استحکام کا سبب قرار دیا ہے۔
افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے روس کے ٹی آر ٹی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ اور منشیات کی اسمگلنگ کی روک تھام کے بہانے افغانستان پر امریکی فوج کی یلغار کو سولہ سال سے زیادہ کا عرصہ گذرنے کے باوجود نہ صرف یہ کہ دہشتگردی ختم نہیں ہوئی بلکہ اس لعنت میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق حامد کرزئی نے کہا کہ امریکہ، داعش سمیت دیگر دہشتگرد گروہوں کو اسلحے اور جنگی ساز و سامان بھیج کر علاقے میں بدامنی پھیلا رہا ہے اور افغانستان میں جنگ جاری رکھنا چاہتا ہے۔
انھوں نے پڑوسی اور علاقائی ملکوں سے اپیل کی کہ وہ جنگ ختم کرنے میں اشرف غنی حکومت کی مدد کریں۔افغانستان کے سابق صدر نے اس سے پہلے بھی افغانستان کے سلسلے میں امریکہ کی نئی اسٹریٹیجی کو کابل اور علاقے کے خلاف خطرناک سازش قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ اسٹریٹیجی بدامنی پھیلنے اور عوام کا قتل و غارتگری بڑھنے کا سبب بنے گی۔