یمن پر تازہ سعودی جارحیت،25 شہید اور زخمی
سعودی حکومت کے لڑاکا طیاروں نے اتوار کے روز ایک بار پھر یمن کے دارالحکومت صنعا کے رہائشی علاقوں پر بمباری کی ہے جس میں کم سے کم پانچ عام شہری شہید اور بیس دیگر زخمی ہوئے ہیں۔
یمنی ذرائع کے مطابق سعودی حکومت کے لڑاکا طیاروں نے شمالی صنعا کے علاقے ارحب میں رہائشی مکانات پر بمباری کی جس کے نتیجے میں متعدد مکانات تباہ ہوگئے ہیں۔ سعودی حکومت کی تازہ جارحیت میں ایک کم سن بچے سمیت کم سے کم پانچ افراد شہید اور بیس دیگر زخمی ہوئے ہیں۔اس سے پہلے ایک مجلس عزا میں شرکت کے بعد اپنے گھروں کو لوٹنے والی خواتین پر سعودی حکومت کے لڑاکا طیاروں نے حملہ کردیا تھا جس کے نتیجے میں دو خواتین شہید اور متعدد زخمی ہوگئی تھیں۔یمنی ذرائع نے بتایا ہے کہ سعودی حکومت کے لڑاکا طیاروں نے صوبہ صعدہ کے کتاف ڈویژن کے علاقے البقع پر سات بار بمباری کی ہے۔سعودی جارحیت کے جواب میں یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے جوانوں نے بھی سعودی عرب کے سرحدی صوبے عسیر کے علاقے مجازہ میں سعودی فوجی اتحاد کے ٹھکانوں پر گولہ باری اور نجران کے علاقے شرفہ کے قریب تعینات سعودی فوجیوں کو فائرنگ کا نشانہ بنایا ہے۔یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے جوانوں نے صوبہ جیزان میں بھی سعودی فوجی اہداف پر گولہ باری کی ہے۔دوسری جانب کینیڈا میں قائم گلوبل ریسرچ نامی ادارے نے کہا ہے کہ سعودی عرب پوری منصوبہ بندی کے ساتھ یمن کو جارحیت کا نشانہ اور اس کے تاریخی اور ثقافتی ورثے کو تباہ کررہا ہے۔گلوبل ریسرچ کے مطابق سعودی عرب نے یمن کے ان تاریخی شہروں پر کم سے کم پانچ بار بمباری کی ہے جن کی تاریخی عمارتوں کو اقوام متحدہ نے عالمی ورثے میں شامل کررکھا ہے۔تاریخی ورثے کی حفاظت کرنے والے یمنی ادار ے کے مطابق، صعدہ اور تعز سمیت یمن کے دیگر شہروں پر سعودی بمباری کے نتیجے میں تاریخی عمارتوں اور ورثے کو زبردست نقصان پہنچا ہے۔درایں اثنا دنیا بھر کی ڈھائی سو سے زیادہ سیاسی، علمی اور ثقافتی شخصیات نے امریکہ اور فرانس کے صدور اور برطانوی وزیر اعظم کے نام اپنے کھلے خط میں سعودی عرب کو اسلحہ کی سپلائی بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔یہاں اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ مذکورہ تینوں ممالک سعودی عرب کو اسلحہ سپلائی کرنے والے اہم ترین ممالک ہیں۔امریکہ، فرانس اور برطانیہ کے حمکرانوں کے نام دنیا کی ڈھائی سو سے زائد سیاسی، علمی اور ثقافتی شخصیات کے خط میں کہا گیا کہ کہ سعودی جارحیت کی وجہ سے یمن کو تاریخ کے بدترین قحط کا سامنا ہے اور ہر دس منٹ میں ایک یمنی بچہ بھوک اور بیماریوں کی وجہ سے موت کی آغوش میں جارہا ہے۔واضح رہے کہ سعودی اتحاد کی جانب سے مارچ دو ہزار پندرہ سے یمن پر جارحیت کا سلسلہ جاری ہے جس میں اب تک ہزاروں عام شہری شہید و زخمی ہو چکے ہیں جن میں بڑی تعداد میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔