یمن پر وحشیانہ سعودی جارحیت
سعودی عرب کے جارح جنگی طیاروں نے یمن کے صوبہ مآرب کے شہر صرواح کے رہائشی علاقوں پر بمباری کی ہے- جواب میں یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے بھی سعودی عرب اور اس کے اتحادی فوجیوں کے ٹھکانوں پر حملہ کر کے انہیں خاصا جانی اور مالی نقصان پہنچایا ہے۔
العالم ٹی وی چینل نے خبر دی ہے کہ سعودی عرب کے جارح جنگی طیاروں نے یمن کے صوبہ مآرب کے رہائشی علاقوں پر بمباری کی ہے جس میں متعدد عام شہری زخمی ہوئے ہیں-
سعودی جنگی طیاروں نے صوبہ صعدہ کے شہر سحار کے علاقے الطلح پر بھی متعدد بار بمباری کی- سعودی عرب کے جنگی طیاروں نے یمن کے مغربی صوبے حجہ میں الشغادرہ شہر کے رہائشی علاقوں کو بھی نشانہ بنایا جس میں کم سے کم چار عام شہری شہید اور متعدد دیگر زخمی ہوئے ہیں-
اس سے پہلے اتوار کی رات بھی سعودی طیاروں نے حجہ پر بمباری کی تھی جس میں چار یمنی شہری شہید اور دس دیگر زخمی ہو گئے تھے-
دوسری جانب یمنی فوج اور عوامی رضا کار فورس نے سعودی عرب کے سرحدی صوبے نجران میں سعودی فوجی اڈے الطلعہ پر حملہ کیا جس میں متعدد سعودی فوجی ہلاک اور زخمی ہو گئے- یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے یمن کے شمالی صوبے الجوف کے شہر الغیل میں سعودی اتحادی فوجیوں کے ٹھکانوں پر زلزال دو میزائل سے حملہ کیا- اس میزائلی حملے میں بھی متعدد سعودی اتحادی فوجی ہلاک اور زخمی ہو گئے-
ادھر یمنی فوج کے اسنائپروں نے بھی صوبہ مآرب میں سعودی اتحادی فوج کے پانچ اہلکاروں کو موت کے گھاٹ اتار دیا- یمن سے ہی موصولہ خبروں میں کہا گیا ہے کہ یمنی بحریہ نے جارح فوجوں کے ایک جاسوسی بحری جہاز کو یمن کے ساحلوں پر پکڑ لیا ہے - سعودی عرب نے امریکا اور کچھ عرب ملکوں کے ساتھ مل کر یمن پر مارچ دو ہزار پندرہ سے اپنی وحشیانہ جارحیت شروع کر رکھی ہے جس میں اب تک دسیوں ہزار یمنی شہری شہید اور زخمی ہو چکے ہیں جبکہ دسیوں لاکھ یمنی باشندے بے گھر ہو گئے ہیں-
سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے ذریعے یمن کا محاصرہ جاری رہنے کی وجہ سے یمنی شہریوں کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہے اور دواؤں کے فقدان کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ وبائی امراض میں مبتلا ہو کر اپنی جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں-
سعودی عرب کے وحشیانہ حملوں میں یمن کی بیشتر شہری تنصیبات منجملہ اسپتال اور اسکول و کالج بھی تباہ ہو گئے ہیں-