یمنی فوج کے جوابی حملے میں متعدد سعودی فوجی ہلاک
یمنی فوج نے سعودی عرب اور اس کے اتحادی فوجیوں کی جارحانہ کارروائیوں کے جواب میں متعدد جارح فوجیوں کو ہلاک کردیا ہے۔
یمن کے سیکورٹی ذرائع نے خبردی ہے کہ یمنی فوج نے صوبہ مارب میں مفرور صدر منصورہادی کے حامی فوجیوں کے اڈے پر حملہ کرکے متعدد جارح فوجیوں کو موت کے گھاٹ اتاردیا ہے - یمن کے سیکورٹی ذرائع نے خبردی ہے کہ یمنی فوج نے اپنی اس کارروائی میں منصور ہادی کے چار فوجیوں کو ہلاک کردیا ہے۔
دوسری جانب یمنی فوج کے اسنائپروں نے بھی تعز اور الجوف کے محاذوں پر سعودی اتحاد میں شامل تیئیس فوجیوں کو ہلاک یا زخمی کردیا ہے۔
ا س درمیان یمنی فوج نے اپنی دفاعی طاقت میں اضافہ کرتے ہوئے ایک نئے دفاعی میزائلی سسٹم کی رونمائی کی ہے۔ یمنی فوج نے اعلان کیا ہے کہ یہ میزائلی سسٹم سعودی عرب کے جارح جنگی طیاروں کا مقابلہ کرنے کے لئےتیار کیا گیا ہے۔اس نئے دفاعی میزائلی سسٹم کی رونمائی کی خبر ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب یمن کی فوج اور عوامی رضاکارفورس کے میزائلی یونٹ نے گذشتہ دو روز کے دوران سعودی عرب کے دو جنگی طیاروں کو زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں سےنشانہ بنایا ہے۔
درایں اثنا عالمی ادارہ صحت نے اعلان کیا ہے کہ یمن میں خناق کی بیماری میں مرنے والوں کی تعداد اڑتالیس ہوگئی ہے۔عالمی ادارہ صحت یا ڈبلیو ایچ او نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ یمن میں اب تک پانچ سوافراد خناق یا ڈیفتھیریا کی بیماری میں مبتلا ہوچکے ہیں۔
ڈیفتھیریا ایک وبائی مرض ہے جو بہت ہی خطرناک ہوتاہے اور یہ مرض انسان کے نظام تنفس کو متاثر کردیتا ہے۔اس بیماری کے آغاز میں گلے میں درد ، بخار، کھانسی اور آواز بیٹھ جاتی ہے اور جب یہ بیماری زیادہ بڑھ جاتی ہے تو دل اور گردے کو بھی عارضہ لاحق ہوجاتاہے اور ہاتھ پیر مفلوج ہوجاتے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت نے اپنی رپورٹ میں اس بات کا ذکرکرتے ہوئے کہ یمن کو اس وقت دنیا کے بدترین انسانی بحران کا سامنا ہے کہا ہے کہ یمن کے اسّی لاکھ افراد قحط اور بھوک مری کا شکار ہیں۔ یمن کی بنیادی شہری تنصیبات منجملہ واٹرسپلائی سسٹم کو سعودی عرب کے حملوں میں تباہ کردئے جانے کے بعد یمن میں وبائی امراض تیزی کے ساتھ پھیل رہے ہیں۔ یمن پر مارچ دوہزار پندرہ سے سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے حملے جاری ہیں جن کے نتیجے میں جہاں دسیوں ہزار یمنی شہری شہید اور زخمی ہوچکے ہیں وہیں اس ملک کا بنیادی ڈھانچہ بھی تباہ ہوگیا ہے۔ سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں نے یمن کا چاروں طرف سے محاصرہ کررکھا ہے جس کی وجہ سے یمنی شہریوں کو انسان دوستانہ امداد بھی نہیں پہنچ پارہی ہے۔