امریکہ سمیت بعض ملکوں پر شام کی تنقید
اقوام متحدہ میں شام کے مستقل مندوب نے شامی عوام کے قتل عام میں ملوث ہونے کی بنا پر امریکہ، برطانیہ، سعودی عرب، فرانس، اور اردن پر کڑی تنقید کی ہے۔
ارنا کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ میں شام کے مستقل مندوب بشار جعفری نے بحران شام کے حل کے لئے ویانا میں سیاسی مذاکرات کے دوسرے روز جنیوا کے سیاسی عمل کی بحالی کے لئے امریکہ، برطانیہ، فرانس، سعودی عرب اور اردن کی غیر سرکاری تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تمام ممالک شامی عوام کے قتل عام اور ان کی خونریزی میں ملوث رہے ہیں۔انھوں نے ویانا میں شام کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے اسٹیفن دیمستورا سے ملاقات کے بعد اپنے مذاکرات کو مفید و تعمیری قرار دیا تاہم امریکہ و سعودی عرب کی شمولیت سے جنیوا کے سیاسی عمل کی بحالی سے متعلق پیش کی جانے والی تجویز کو مسترد کر دیا۔اقوام متحدہ میں شام کے مستقل مندوب نے کہا کہ امریکہ، کہ جس نے داعش جیسے دہشت گرد گروہ کو تشکیل دیا اور اس کی بھرپور حمایت کی اور یا سعودی عرب جیسا جاہل ملک شام کے مستقبل کے بارے میں کسی بھی فیصلے میں شمولیت کا حق نہیں رکھتا۔
شام کو تقریبا سات برسوں سے داعش اور جبہت النصرہ جیسے دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کی بنا پر کہ جنھیں مغرب اور علاقے کے بعض ملکوں کی حمایت حاصل ہے، بحران کا سامنا ہے۔البتہ شام کے مختلف علاقوں میں شامی فوج کی کامیابی اور دہشت گرد گروہوں کی شکست اور اسی طرح باقی علاقوں میں شامی فوج کی پیش قدمی کی بنا پر اس ملک میں دہشت گرد گروہوں کا وجود بس اختتام پر ہے۔دوسری جانب شام کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے اسٹیفن دیمستورا نے شام میں جنگ و خونریزی کے خاتمے اور اس ملک کے قومی اقتدار اعلی کا احترام کئے جانے کی ضرورت پر تاکید کی ہے۔انھوں نے ویانا میں شام کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شام کی خود مختاری ، ارضی سالمیت اور قومی اقتدار اعلی کا احترام کئے جانے کی ضرورت ہے۔دیمستورا نے ویانا مذاکرات کے اختتام پر ان مذاکرات کا مقصد سلامتی کونسل کی قرارداد بائیس چوّن پر مکمل عمل درآمد قرار دیا جس میں اقوام متحدہ کی زیرنگرانی شامی گروہوں کے جنیوا مذاکرات پر زور دیا گیا ہے۔اس قرارداد میں شام میں آزادانہ صدارتی و پارلیمانی انتخابات پر زور دیا گیا ہے تاکہ شامی عوام اقوام متحدہ کی نگرانی میں اپنے ملک کے مستقبل کے فیصلے میں اپنا بھرپور کردار ادا کر سکیں-واضح رہے کہ ویانا میں شامی فریقوں کے مذاکرات جمعرات کو ختم ہوئے ہیں۔