سعودی فوج کے ٹھکانوں پر یمنی فوج کے حملے
https://urdu.sahartv.ir/news/islamic_world-i318209-سعودی_فوج_کے_ٹھکانوں_پر_یمنی_فوج_کے_حملے
یمن سعودی عرب سرحد پر جھڑپوں میں شدت کے بعد یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے جوانوں نے نجران کے علاقے میں قائم سعودی فوج کے دو ٹھکانوں پر حملہ کیا ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Mar ۱۹, ۲۰۱۸ ۱۳:۴۰ Asia/Tehran
  • سعودی فوج کے ٹھکانوں پر یمنی فوج کے حملے

یمن سعودی عرب سرحد پر جھڑپوں میں شدت کے بعد یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے جوانوں نے نجران کے علاقے میں قائم سعودی فوج کے دو ٹھکانوں پر حملہ کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق  یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے جوانوں نے سعودی عرب کے سرحدی صوبے نجران میں واقع رقابت الحق اور الحماد نامی فوجی اڈوں پر حملہ کر کے متعدد سعودی فوجیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اس کارروائی میں متعدد سعودی فوجی زخمی بھی ہوئے۔
یمنی فوج کے جوانوں نے اس کارروائی کے دوران سعودی فوج کے اسلحے اور گولہ بارود کے گودام میں آگ لگانے کے علاوہ بڑی مقدار میں اسلحہ اپنی تحویل میں لے لیا۔
 اس سے پہلے سے جمعے کے روز یمن کی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے جوانوں نے سعودی عرب کے سرحدی علاقے جازان میں النسور کی بلندیوں اور عفرہ نامی فوجی سائٹ کو اپنے حملوں کا نشانہ بنایا تھا۔
 دوسری جانب یمنی فوج  اور عوامی رضاکار فورس کے جوانوں نے ملک کے شمالی صوبے الجوف میں سعودی اتحاد کے فوجیوں پر متعدد حملے کیے ہیں اور صوبے کے متعدد علاقوں میں پیشقدمی کی۔
 عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ خب الشعف سٹی کی الخنجر چھاؤنی پر عوامی رضاکار فورس کے حملے میں سعودی عرب کے حمایت یافتہ مستعفی صدر منصور ہادی کے تیس فوجی ہلاک ہو گئے۔
سعودی عرب نے امریکہ اور مغرب کی شہ پر  پچھلے تین برس سے یمن کو جارحیت کا نشانہ بنانے کے علاوہ اس ملک کا زمینی اور سمندری اور فضائی محاصرہ بھی رکھا ہے جسکا مقصد منصور ہادی کی کٹھ پتلی حکومت کو دوبارہ اقتدار میں لانا ہے۔
یمن پر سعودی جارحیت کے نتیجے میں ہزاروں افراد شہید و زخمی ہو چکے ہیں اور کئی لاکھ لوگوں کو اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔
یمن کے محاصرے کے نتیجے میں اس ملک کا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہوکے رہ گیا جبکہ دواؤں  اور غذائی اشیا کی شدید قلت کی وجہ سے ستر فی صد آبادی کو بھوک مری اور مختلف طرح کی بیماریوں کا سامنا ہے۔
 عالمی ادارہ صحت نے یمن میں ڈیفتھیریا اورہیضے کے وبائی شکل اختیار کرنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا ہے۔
امریکہ اور مغربی ملکوں کی جانب سے سعودی جارحیت کی کھلی حمایت کی وجہ سے عالمی ادارے، جنگ یمن کو بند کرانے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔