شام کے بارے میں برسلز کانفرنس کا اختتام
انسان دوستانہ امداد کے امور میں یورپی یونین کے کمشنر نے برسلز میں شام اور علاقے کے مستقبل کی حمایت کے زیرعنوان تین روزہ کانفرنس کے اختتام پر شامی پناہ گزینوں کی امداد کے لئے یورپی ملکوں کی جانب سے سات ارب ڈالر ادا کرنے کے لئے آمادگی کا اعلان کیا۔
انسان دوستانہ امداد کے امور میں یورپی یونین کے کمشنر کرسٹس اسٹائلیانیڈس نے جمعرات کی رات شامی پناہ گزینوں کے لئے سات ارب ڈالر کی امداد جمع کئے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ مستحکم، جمہوری اور طاقتور شام کا وجود سیاسی آشتی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
اقوام متحدہ کے انسان دوستانہ امور کے کوآرڈینیٹر مارک لوکاک نے بھی برسلز کانفرنس کے اختتام پر شامی پناہ گزینوں کی امداد کے لئے یورپی ملکوں کی جانب سے سات ارب ڈالر جمع کئے جانے پر رضامندی کا اظہار کرتے ہوئے شامی پناہ گزینوں کے میزبان ملکوں خاص طور سے لبنان، ترکی اور عراق کی قدردانی کی۔
لوکاک نے کہا کہ اگرچہ انسان دوستانہ امداد ضروری ہے تاہم اس سے اصل بحران حل کرنے میں کوئی مدد نہیں ملے گی اس لئے بحران کو حل کرنے کے لئے ایک پائیدار امن کے قیام اور اس کے لئے ایک جامع سیاسی حل کی طرف رخ کرنا ہو گا۔
برسلز میں یورپی یونین، یورپی اداروں، شام اور علاقے کے مختلف اداروں اور کمپنیوں، اقوام متحدہ کے مختلف ذیلی اداروں اور تنظیموں، شام کے مختلف پڑوسی ملکوں کے نمائندوں اور مدد کرنے والے ملکوں کی میزبانی میں شام اور علاقے کے مستقبل کی حمایت کے زیرعنواں تین روزہ کانفرنس، بارہ مارچ کو برسلز میں شروع ہوئی تھی۔
اس کانفرنس کا مقصد انسان دوستانہ خدمات کے لئے مالی امداد کا جمع کرنا اور شام میں امن و استحکام کی ضمانت سے متعلق سیاسی مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانے کے لئے راہ ہموار کرنا تھا۔
واضح رہے کہ شام کا بحران علاقے میں غاصب صیہونی حکومت کے مفاد میں توازن تبدیل کرنے کی غرض سے سعودی عرب، امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے حمایت یافتہ دہشت گردوں کی جانب سے شام پر حملے سے شروع ہوا تھا۔
جس کے بعد دہشت گردوں نے شام کے مختلف علاقوں پر غاصبانہ قبضہ بھی جما لیا تھا تاہم شامی فوج نے اسلامی جمہوریہ ایران کی مشاورت اور روس کی حمایت سے اس ملک میں دہشت گردوں کی بساط لپیٹ کر رکھ دی۔ اور اس ملک میں دیگر تمام دہشت گرد گروہ بھی شکست کھانے کے بعد سمٹتے جا رہے ہیں۔