ترکی کے مداخلت پسندانہ اقدامات تشویشناک رخ اختیار کر رہے ہیں
Dec ۰۵, ۲۰۱۵ ۱۲:۱۶ Asia/Tehran
علاقے میں ترکی کے مداخلت پسندانہ اور کشیدگی پھیلانے والے اقدامات کا سلسلہ جاری ہے-
حالیہ دنوں میں ترکی کی طرف سے شام اور عراق کے اقتدار اعلی کی خلاف ورزی پرمبنی اقدامات نے زیادہ تشویشناک اور خطرناک رخ اختیار کرلیا ہے اور ترکی کی جانب سے عراق کی سرحدی حدود کی خلاف ورزی پر عراقی حکومت نے شدید برہمی کا اظہار کیا ہے-خبروں کے مطابق تازہ اقدام میں ترکی کے ایک سو تیس فوجی عراق میں داخل ہوئے ہیں اور عراق کے اقتدار اعلی کی اس خلاف ورزی پر عراقی حکام نے شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے۔
اس سلسلے میں عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی نے مطالبہ کیا ہے کہ ترک فوجی فوری طور پر عراق سے چلے جائیں۔ حیدر العبادی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ترکی کے مسلح فوجی عراقی حکومت کی اجازت کے بغیر موصل کے قریب عراقی علاقے میں داخل ہوئے ہیں اور جلد سے جلد وہ عراق سے چلے جائیں۔ عراقی وزیر اعظم نے ترکی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اچھی ہمسائیگی کا احترام کرے اور اپنے فوجیوں کو فورا" عراق سے واپس بلا لے۔
عراقی حکومت نے کہا ہے کہ ترکی کے فوجیوں کا عراق میں داخل ہونا، وہ بھی عراق کی مرکزی حکومت کی اجازت کے بغیر، ایک ملک کے اقتدار اعلی کی خلاف ورزی اور ایک خطرناک اقدام شمار ہوتا ہے کہ جو اچھی ہمسائیگی کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ واضح رہے کہ ترکی نے جمعہ کی شام کو اپنے ایک سو تیس فوجی موصل کے قریب، عراقی علاقے بشیقہ میں داخل کردیئے ہیں۔ ترکی نے ان فوجیوں کو عراق میں داخل کرنے کا مقصد کرد پیش مرگہ فورس کی تربیت قرار دیا ہے۔
ادھر عراقی پارلیمنٹ میں بدر دھڑے نے بھی عراق میں ترکی کے فوجیوں کی موجودگی پر سخت احتجاج کیا ہے۔ عراق کے بدر پارلیمانی دھڑے نے ایک بیان جاری کرکے عراقی علاقے میں ترک فوجیوں کی موجودگی کو عراق کے اقتدار اعلی کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ اس بیان میں بدر دھڑے نے کہا ہے کہ افسوس کی بات ہے کہ بعض عراقی حکام اور سیاسی گروہوں نے ترک فوج کے ٹینکوں، فوجی اور بکتر بند گاڑیوں کے موصل میں داخل ہونے اور موصل شہر کے اطراف میں زلیکان کیمپ میں ان کی موجودگی پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
عراقی پارلیمنٹ میں بدر دھڑے نے عراقی حکومت، پارلیمنٹ اور سیاسی گروہوں سے عراقی اقتدار اعلی کی کھلی خلاف ورزی کئے جانے پر واضح اور ٹھوس موقف اختیار کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ جان لینا چاہئے کہ عراقی قوم اس طرح کے اقدامات پر خاموش نہیں رہے گی۔
عراقی پارلیمنٹ میں حکومت قانون اتحاد کے رکن عواطف نعمہ نے بھی عراقی سرزمین پر ترک فوجیوں کی موجودگی کی مذمت کی ہے۔ عواطف نمعہ نے کہا کہ ترکی کے فوجیوں کی عراق میں موجودگی ترکی اور بعض عراقی سیاست دانوں کی سازش ہے اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ترکی اور اس کے ایجنٹ وہی ہیں جنہوں نے دہشت گرد گروہ داعش کو عراق میں بھیجا ہے اور جو لاکھوں عراقی بے گناہ شہریوں کے قتل عام اور بے گھر ہونے کا سبب بنے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ترکی اور بعض عراقی سیاست دانوں کو یہ جان لینا چاہئے کہ عراقی قوم یہ سازش رچنے والوں کو سزا دے کر رہے گی۔