پاکستان کےافغانستان اور ایران کےساتھ تعلقات بہتر بنانےکی ضرورت پرتاکید
https://urdu.sahartv.ir/news/radio-i282590-پاکستان_کےافغانستان_اور_ایران_کےساتھ_تعلقات_بہتر_بنانےکی_ضرورت_پرتاکید
عوامی تحریک پاکستان کے سربراہ طاہر القادری نے اپنے ایک بیان میں پاکستان کے اپنے ہمسایہ ملکوں کے ساتھ پیش آنے والی مشکلات کے حوالےسے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تاکید کی ہے کہ اسلام آباد کی حکومت جلد از جلد ایران اور افغانستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنائے۔
(last modified 2026-07-14T14:25:05+00:00 )
May ۱۲, ۲۰۱۷ ۱۶:۲۰ Asia/Tehran
  • پاکستان کےافغانستان اور ایران کےساتھ تعلقات بہتر بنانےکی ضرورت پرتاکید

عوامی تحریک پاکستان کے سربراہ طاہر القادری نے اپنے ایک بیان میں پاکستان کے اپنے ہمسایہ ملکوں کے ساتھ پیش آنے والی مشکلات کے حوالےسے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تاکید کی ہے کہ اسلام آباد کی حکومت جلد از جلد ایران اور افغانستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنائے۔

طاہر القادری نے مزید کہا کہ پاکستان کے ایران اور افغانستان کے ساتھ غیردوستانہ تعلقات سے صرف دھشت گرد ہی فائدہ اٹھائیں گے۔ عوامی تحریک پاکستان کے سربراہ نے تاکید کی کہ ایران اور افغانستان، پاکستان کے دو برادر ہمسایہ ممالک ہیں اور ہمارا مشترکہ دشمن دھشت گرد ہیں۔

طاہر القادری کی یہ تشویش، پاکستان کی خارجہ پالیسی میں پیش آنے والی مشکلات اور اپنے ہمسایہ ملکوں منجملہ افغانستان اور ایران کے ساتھ تعلقات میں پیدا ہونے والی حالیہ کشیدگی کی آئینہ دار ہے، جس کی بناپر کابل اور تھران کےساتھ اسلام آباد کے تعلقات  سرد مہری کا شکار ہوئے ہیں۔

پاکستان اور افغانستان کی سرحدی فورسز کے درمیان ہونے والی حالیہ جھڑپیں، کہ جس میں دونوں طرف کے درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہونے، اگر چہ دونوں ملکوں کےتعلقات میں کوئی نئی بات نہیں ہے، لیکن عوامی تحریک پاکستان کے سربراہ  اس مسئلہ کو علاقے کی سیکورٹی کے حوالے سے دھشت گردوں کی جانب سے غلط فائدہ اٹھانے کا باعث سمجھتے ہیں۔

اس کے علاوہ  ایران کے سرحدی شہرمیرجاوہ میں دہشتگرد گروہ جیش‌الظلم کے دہشتگردوں نے سکیورٹی فورسز پر حملہ کیا تھا جس میں ایرانی بارڈر سیکیورٹی فورسز کے 9 اہلکار شہید ہو گئے تھے اور ایک ایرانی سیکورٹی اہل کار کو دھشت گرد زخمی حالت میں پاکستان کی  سرزمین پر لے گئے تھے اس واقعے پر ایران نے پاکستان سے سخت احتجاج کیا تھا۔

ان دو واقعات کے رونما ہونے کے ساتھ ہی عوامی تحریک پاکستان کے سربرہ نے افغانستان اور ایران کے ساتھ تعلقات کی بہتری کے لئے پاکستان کی جانب سے فوری اقدامات انجام دینے کی ضرورت پر تاکید کرتے ہوئے کابل، تھران اور اسلام آباد کے درمیان کشیدہ تعلقات کے نتائج  کی بابت خبر دار کیا ہے۔

  ماضی میں بھی پاکستان کی حزب اختلاف کی جماعتوں نے بارہا  کمزور خارجہ پالیسی کی وجہ سے اس ملک کے وزیر اعظم نواز شریف پر سخت نتقید کی ہے۔

پاکستان کی حکومت کو سفارت کاری کے شعبے میں جس اہم ترین چیلنج کا سامنا ہے، وہ ہمسایہ ملکوں کے ساتھ شفاف تعلقات کا نہ ہونا ہے اور نواز شریف کے مخالفین کے بقول یہ امر پاکستان کی قومی سلامتی اور مفادات کے خلاف ہے۔

پاکستان کی سرزمین سے دھشت گرد گرہوں کی جانب سے ہمسایہ ملکوں خاص طور پر افغانستان پر کیئے جانے والے حملوں کا موضوع بھی ایک ایسا مسئلہ ہے کہ جو گذشتہ چند سالوں سے لیکر اب تک ہمسایوں کے ساتھ اسلام آباد کے تعلقات میں بڑے بحران میں تبدیل ہوچکا ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ اکثر دھشت گرد گروہ کہ جو سرحد پار کارروائیوں کے لئے پاکستان کی سرزمین استعمال کرتے ہیں ان کا اصلی نشانہ افغانستان ہوتا ہے اور یہ مسئلہ افغانستان کے دیگر ہمسایوں کے لئے بھی خطرے کا باعث ہے۔

اگر چہ ان دھشت گرد گروہوں نے کئی بار ایران کی سرزمین میں داخل ہوکر دھشت گردانہ کارروائیاں انجام دی ہیں۔

البتہ ہندوستان کی حکومت نے بھی بارھا، پاکستان میں ایسے گروہوں پر الزام لگایا ہےکہ جو ہندوستان کی سرزمین میں آکر دھشت گردانہ کارروائیاں انجام دیتے ہیں، عوامی تحریک پاکستان کے سربراہ نے نئی دہلی کے حوالے سے پاکستان کے اندر پائی جانے والی مصلحتوں کی بناپر اس کا ذکر نہیں کیا۔

پاکستان کے وہ عوام اور اس ملک کے وہ سیاسی گروہکہ جو مختلف وجوہات کی بنا پر ہندوستان کو اپنے ملک کا دشمن سمجھتے ہیں،  ہر اس  اقدام کی حمایت کرتے ہیں کہ جو دشمن کے اقتدار اعلی کے کمزور ہونے کا باعث بنے، اگر چہ پاکستان کی قوم ، حکومت اور سیاسی جماعتیں دھشت گردی کو علاقے کے لئے سب سے بڑا خطرہ سمجھتے ہیں اور اس ملک کو دنیا میں دھشت گردی اور انتہاپسندی کی بھینٹ چڑھنے والا سب سے بڑا ملک قرار دیتے ہیں۔