جشن پوریم کیا ہے ؟
https://urdu.sahartv.ir/news/society_culture-i316217-جشن_پوریم_کیا_ہے
استر نے شاہ کے نزدیک ہو کر ایرانیوں کے قتل عام کے مقدمات فراہم کئے۔ اس نے اپنے چچا " مردخای" کے ساتھ مل کر جو اس وقت یہودیوں کا مذہبی لیڈر سمجھا جاتا تھا سب سے پہلے ہامان کے خلاف سازشیں کی اور بالآخر ہامان کو اس کے عہدے سے ہٹا کر اس کے دس بیٹوں کے ساتھ پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Mar ۰۳, ۲۰۱۸ ۱۱:۳۵ Asia/Tehran
  • جشن پوریم کیا ہے ؟

استر نے شاہ کے نزدیک ہو کر ایرانیوں کے قتل عام کے مقدمات فراہم کئے۔ اس نے اپنے چچا " مردخای" کے ساتھ مل کر جو اس وقت یہودیوں کا مذہبی لیڈر سمجھا جاتا تھا سب سے پہلے ہامان کے خلاف سازشیں کی اور بالآخر ہامان کو اس کے عہدے سے ہٹا کر اس کے دس بیٹوں کے ساتھ پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔

پوریم یعنی قرعہ اندازی نامی جشن یہودیوں کا ایک قدیمی سنتی جشن ہے جو چند دہائیوں پہلے غاصب صیہونی حکومت کی تشکیل کے بعد سے مسلسل اپنا رنگ ڈھنگ بدلتا چلا آرہا ہے۔ ایک اندوہناک سانحے کا جشن جس میں ہزاروں ایرانی خشایار شاہ کے دربار میں دو یہودیوں کی سازش کے نتیجے میں قتل کردیئے گئے۔

 

یہ اس دور کی بات ہے کہ جب یہودیوں نے خشایار شاہ کی احکامات کی نافرمانی شروع کررکھی تھی۔ جب خشایار شاہ کے صدر اعظم ہامان نے ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے ان کے خلاف اقدامات شروع کئے تو یہودیوں نے ایک سازش کے تحت ایک یہودی لڑکی" استر" کو بادشاہ کے نزدیک کیا اور اسے سختی سے پابدن کیا کہ وہ اپنے مذہب کو ظاہر نہ کرے۔

 

 

استر نے شاہ کے نزدیک ہو کر ایرانیوں کے قتل عام کے مقدمات فراہم کئے۔ اس نے اپنے چچا " مردخای" کے ساتھ مل کر جو اس وقت یہودیوں کا مذہبی لیڈر سمجھا جاتا تھا سب سے پہلے ہامان کے خلاف سازشیں کی اور بالآخر ہامان کو اس کے عہدے سے ہٹا کر اس کے دس بیٹوں کے ساتھ پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔

 

 

یوں یہودی اپنی سازش میں کامیاب ہوئے۔ یہودیوں نے حکومت پر تسلط حاص کرنے کے بعد شاہ سے تین دن کی مہلت مانگی تاکہ وہ یہودیوں کے قتل کا بدلہ لے سکیں اور ان تین دنوں میں ۷۷ ہزار سے زائد ایرانیوں کا قتل عام کیا گیا اور بعض منابع کے مطابق یہ تعداد پانچ لاکھ سے بھی زیادہ ہے۔

 

 

اس وقت سے لے کر آج تک اس دن کو یہودیوں کی عید کے نام سے باقی رکھا گیا ہے اور ہر سال پوری دنیا میں یہودی اس جشن کو روزے رکھ کر تو کہیں عیش و نوش و مستی میں گم ہو کر مناتے ہیں۔ چونکہ مست ہوجانا اس عید کی ایک سنت ہے۔ لوگ اس دن اتنی زیادہ شراب پیتے ہیں کہ وہ چلنے پھرنے سے بھی قاصر ہوجاتے ہیں اور پھر ہر طرف شراب کے نشے میں غرق یہودی خاخام زندہ لاشوں کے مانند بکھرے ہوئے نظر آتے ہیں۔