خطبہ شعبانیہ
خطبہ شعبانیہ، پیغمبر اکرم(ص) کے اس خطبے کو کہا جاتا ہے جس میں آپ نے رمضان کی فضلیت بیان فرمائی ہیں۔ چونکہ یہ خطبہ ماہ شعبان کے آخری جمعہ کو ارشاد فرمایا اس لئے "خطبہ شعبانیہ" کے نام سے مشہور ہے۔ اس خطبے میں ماہ رمضان کی عظمت کے علاوہ ماتحت اور محتاجوں کا خیال رکھنے، آنکھ، کان اور زبان کو قابو میں رکھنے، قرآن کی تلاوت کرنے، صلوات بھیجنے اور قیامت کو یاد کرنے کی سفارش کی ہیں۔
اس خطبے کے آخر میں امام علیؑ کے اس سوال پر کہ ماہ رمضان میں سب سے افضل عمل کونسا ہے؟ پیغمبر اکرمؐ نے گناہ سے دوری اختیار کرنے کو اس مہینے کا سب سے افضل عمل قرار دیا اور اسی مہینے میں امام علیؑ کی شہادت کی خبر دیتے ہوئے آپ کے بعض فضائل اور مناقب کی طرف بھی اشارہ فرمائے ہیں۔
اس خطبے کو امام رضاؑ نے اپنے آباء کے توسط سے امام علیؑ سے نقل فرمایا ہے۔ اس خطبے کے مضامین حدیثی مآخذ کے علاوہ مستقل صورت میں بھی ترجمہ اور شرح کے ساتھ منظر عام پر آ چکے ہیں۔
اس خطبہ کو جن اہم ترین مآخذ نے نقل کیا ہے وہ درج ذیل ہیں:
شیخ صدوق، عیون اخبار الرضا(ع)، ج1، حدیث 53۔
امالی شیخ صدوق، ص226-218۔
محمد باقر مجلسی، بحار الانوار، ج93، کتاب الصوم، حدیث 25۔
شیخ حر عاملی، وسائل الشیعہ، ج7، ص226.
شیخ عباس قمی نے مفاتیح الجنان میں خطبے کے عمدہ حصے کو ماہ رمضان کی فضیلت کے باب میں امالی شیخ صدوق سے نقل کیا اور اسکی سند کومعتبر کہا۔
مضامین
پیغمبر اکرم(ص) نے اس خطبہ کو ماہ رمضان کی اہمیت اور اس کی فضیلت کو بیان کرنے کے ساتھ شروع فرماتے ہیں اس کے بعد درج ذیل نکات کی طرف اشارہ فرماتے ہیں:
اس مہینے میں روزہ رکھنے اور دیگر عبادات کے ثواب کا بیان؛
رحمت الہی سے محروم نہ رہنے کی تأکید؛
خدا کی رحمت کے دروازوں کا کھلنا؛
شیاطین کا زنجیروں میں جکڑے جانا؛
روزہ کی حرمت کا خیال رکھنا؛
قیامت کی بھوک اور پیاس کی یاد آوری؛
ماتحتوں، محتاجو، بزرگو اور بجوں کا خیال رکھنا؛
صلہ رحم؛
افطاری دینا، اگرچہ ایک کجھور یا پانی کے ایک گھونٹ کے ذریعے ہی کیوں نہ ہو؛
آنکھ، کان اور زبان کی حفاظت؛
نماز، توبہ،دعا اور استغفار پر خاص توجہ دینا،
تلاوت قرآن کریم
بہت زیادہ صلوات پڑھنا،
لوگوں پر ظلم و ستم سے پرہیز کرنا؛
خوش اخلاقی؛
خطبے کے آخر میں امام علی(ع) نے اس مہینے میں سب سے افضل عمل کے بارے میں سوال کیا تو پیغمبر اکرم(ص) نے گناہ کے ترک کرنے کو اس مہینے کا سب سے افضل عمل قرار دیا اور روتے ہوئے امام(ع) کو آپکی شہادت کی بشارت دیتے ہوئے آپ کے فضائل اور کمالات میں سے بعض کو لوگوں تک پہنچایا اور آپکی امامت کے انکار کو خود پیغمبر اکرم(ع) کی نبوت کے انکار کے مساوی قرار دیا۔