امام جواد علیہ السلام کی مختصر حیات طیبہ
علماء کا بیان ہے کہ امام محمد تقی علیہ السلام بتاریخ 10/ رجب المرجب195 ہجری قمری برابر(811 میلادی) یوم جمعہ بمقام مدینہ منورہ متولد ہوئے۔
نام : محمد بن علی
نام پدر : علی بن موسی الرضا
نام مادر : سبیکہ ( پیامبر اسلام کی بیوی ماریہ قبطیہ کے خاندان سے )
کنیت : ابو جعفر ثانی
القاب : تقی، جواد
علماء کا بیان ہے کہ امام محمد تقی علیہ السلام بتاریخ 10/ رجب المرجب195 ہجری قمری برابر(811 میلادی) یوم جمعہ بمقام مدینہ منورہ متولد ہوئے۔
شیخ مفیدعلیہ الرحمة فرماتے ہیں چونکہ حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے کوئی اولاد آپ کی ولادت سے قبل نہ تھی اس لئے لوگ طعنہ زنی کرتے ہوئے کہتے تھے کہ شیعوں کے امام منقطع النسل ہیں یہ سن کر حضرت امام رضا علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ اولاد کا ہونا خدا کی عنایت سے متعلق ہے اس نے مجھے صاحب اولاد قرار دیا ہے اورعنقریب میرے یہاں مسند امامت کا وارث پیدا ہوگا چنانچہ آپ کی ولادت باسعادت ہوئی ۔
ولادت سے متعلق لکھا ہے کہ امام رضا علیہ السلام کی بہن جناب حکیمہ خاتون فرماتی ہیں کہ ایک دن میرے بھائی نے مجھے بلا کر کہا کہ آج تم میرے گھرمیں حاضر رہو کیونکہ خیزران کے بطن سے آج رات کو خدا مجھے ایک فرزند عطا فرمائے گا ،میں نے خوشی کے ساتھ اس حکم کی تعمیل کی ، جب رات ہوئی تو ہمسایہ کی چندعورتیں بھی بلائی گئیں، نصف شب سے زیادہ گزرنے پریکایک وضع حمل کے آثارنمودارہوئے یہ حال دیکھ کر میں خیزران کوحجرہ میں لے گئی، اورمیں نے چراغ روشن کردیا تھوڑی دیرمیں امام محمدتقی علیہ السلام پیداہوئے ، میں نے دیکھاکہ وہ مختون اورناف بریدہ ہیں ، ولادت کے بعد میں نے انہیں نہلانے کے لیے طشت میں بٹھایا، اس وقت جوچراغ روشن تھا وہ گل ہوگیا مگر پھر بھی اس حجرہ میں اتنی روشنی بدستور رہی کہ میں نے آسانی سے بچہ کونہلادیا. تھوڑی دیرمیں میرے بھائی امام رضاعلیہ السلام بھی وہاں تشریف لے آئے میں نے نہایت عجلت کے ساتھ صاحبزادے کوکپڑے میں لپیٹ کر حضرت (ع) کی آغوش میں دیدیا آپ نے سر اورآنکھوں پربوسہ دیے کر پھرمجھے واپس کردیا، دودن تک امام محمدتقی علیہ السلام کی آنکھیں بند رہیں تیسرے دن جب آنکھیں کھولیں تو آپ نے سب سے پہلے آسمان کی طرف نظرکی پھرداہنے بائیں دیکھ کرکلمہ شہادتین زبان پرجاری کیا میں یہ دیکھ کر سخت متعجب ہوئی اورمیں نے سارا ماجرا اپنے بھائی سے بیان کیا، آپ نے فرمایا تعجب نہ کرو، یہ میرا فرزندحجت خدا اور وصی رسول خدا ہیں اس سے جوعجائبات ظہورپذیرہوں ،ان میں تعجب کیا ، محمدبن علی ناقل ہیں کہ حضرت امام محمدتقی علیہ السلام کے دونوں کندھوں کے درمیان اسی طرح مہر امامت تھی جس طرح دیگرآئمہ علیہم السلام کے دونوں کندھوں کے درمیان مہریں ہوا کرتی تھیں۔
امام جواد علیہ السلام کی زندگی کے مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت سب سے پہلا وہ امام ہیں جو بچپنی کے عالم میں امامت کی منصب پر فائز ہوچکے ہیں اور لوگوں کیلئے یہ سوال بن چکا تھا کہ ایک نوجوان امامت کی اس سنگین اور حساس مسئولیت کو کیسے سنبھال سکتا ہے ؟ کیا کسی انسان کیلئے یہ ممکن ہے کہ اس کمسنی کی حالت میں کمال کی اس حد تک پہنچ جائے اور پیغمبر کے جانشین ہونے کا لائق بن جائے ؟ اور کیا اس سے پہلے کے امتوں میں ایسا کوئی واقعہ پیش آیا ہے ؟
اس قسم کے سوالات کوتاہ فکر رکھنے والے لوگوں کے ذہنوں میں آکر اس دور کا اسلامی معاشرہ مشکلات کا شکار ہوچکا تھا لیکن جب قادر مطلق و حکیم کے خاص لطف و عنایت جو ہر زمانے میں جامعہ بشریت کے لئے ارمغان لاچکی ہے اپنے آپ کو احساس کمتری میں مبتلا کردیا تھا۔ اس مطلب کے ثبوت کیلئے ہمارے پاس قرآن و حدیث کی روشنی میں شواہد و دلائل فراوان موجود ہیں۔
مدینہ رسول سے فرزند رسول کو طلب کرنے کی غرض چونکہ نیک نیتی پرمبنی نہ تھی، اس لیے عظیم شرف کے باوجود آپ حکومت وقت کی نظروں میں کھٹکتے رہے اسی لئے معتصم نے بغداد بلوا کرآپ کوقید کر دیا۔
ایک سال تک آپ نے قید کی سختیاں صرف اس جرم میں برداشت کیں کہ آپ کمالات امامت کے حامل کیوں ہیں اور آپ کو خدا نے یہ شرف کیوں عطا فرمایا ہے۔ بعض علماء کا کہنا ہے کہ آپ پر اس قدر سختیاں تھیں اوراتنی کڑی نگرانی اور نظربندی تھی کہ آپ اکثراپنی زندگی سے بیزارہوجاتے تھے بہرحال وہ وقت آ گیا کہ آپ صرف 25 سال، 3 مہینہ اور 12 دن کی مختصر عمر میں قید خانہ کے اندرآخری ذی قعدہ معتصم کے زہرسے شہید ہو گئے۔